امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 15 فروری : سری نگر میں ہفتہ کے روز میرواعظ عمر فاروق کی صدارت میں استقبالیۂ رمضان پروگرام منعقد ہوا، جس میں وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور دینی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس میں ماہِ مقدس رمضان کی تیاریوں اور جامع مسجد سری نگر میں مذہبی اجتماعات کے انتظامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اپنے خطاب میں میرواعظ نے رمضان المبارک کے دوران مذہبی فرائض کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اجتماعی عبادات کے لیے سازگار ماحول یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اجلاس کے اختتام کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ برادری کو توقع ہے کہ حکومت مذہبی پروگراموں کے پُرامن انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا، “ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت مذہبی فرائض کی ادائیگی میں تعاون کرے گی اور جامع مسجد سری نگر میں مذہبی اجتماعات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ ہمیں جمعۃ الوداع، شبِ قدر اور دیگر پروگرام بغیر کسی خلل کے ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔”
ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ بطور مذہبی رہنما ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُن لوگوں کے حق میں آواز بلند کریں جنہیں وہ مظلوم قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض علاقوں میں مساجد کو منہدم کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے رمضان المبارک کی پُرامن ادائیگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انتظامیہ سے اپیل کی کہ عبادت گزاروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ پروگرام کا اختتام امن و سلامتی اور عوام کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔





