امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 16 فروری: مختلف سرکاری محکموں سے وابستہ یومیہ اجرت ملازمین نے پیر کے روز سری نگر میں اپنی ملازمتوں کو مستقل کرنے کے مطالبے پر زبردست احتجاج کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق درجنوں یومیہ اجرت کارکنان جمع ہوئے اور حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر دفتر واقع نوائے صبح کی جانب مارچ کیا۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو ریڈیو کشمیر سرینگر کے قریب روک لیا اور انہیں پارٹی دفتر کی طرف بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔
مظاہرین نے ملازمتوں کے تحفظ اور طویل عرصے سے زیر التوا وعدوں پر عمل درآمد کے حق میں نعرے بازی کی۔ مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے ان ملازمین نے اپنی ملازمت کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
پلے کارڈز اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے کارکنان نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایک واضح اور ٹھوس پالیسی مرتب کرے تاکہ ان کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جا سکے اور انہیں درپیش مالی مشکلات کا ازالہ ہو۔ متعدد مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کئی برسوں سے مستقل حیثیت، مقررہ تنخواہ اور سماجی تحفظ کی سہولیات کے بغیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، تاہم صورتحال کشیدہ سرگرمیوں کے باوجود پرامن رہی۔
مظاہرین کے نمائندوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرے اور ان کی مستقلی کے لیے وقت مقررہ لائحہ عمل کا اعلان کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد غور نہ کیا گیا تو وہ آنے والے دنوں میں اپنے احتجاج کو مزید وسعت دیں گے۔ [کے این ٹی]






