امت.نیوز ڈیسک//
جموں : جموں و کشمیر اسمبلی میں بجلی نرخوں میں مبینہ اضافے کے معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کی ہی پارٹی کے ایم ایل اے بشیر احمد ویری کے درمیان دلچسپ مگر تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے کو ملا۔
سرگوفوارہ – بجبہاڑہ حلقہ سے منتخب ایم ایل اے بشیر احمد ویری نے ایوان میں کہا کہ ان کے حلقے میں بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف روزانہ احتجاج ہو رہے ہیں جس پر انہیں عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا حلقہ سیاسی طور پر کافی حساس ہے جہاں اپوزیشن کی خاص توجہ رہتی ہے، اس لیے تمام دباؤ انہیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ویری کے مطابق بجلی بقایہ جات کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ سرکاری اور سیکورٹی اداروں کے کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔
اس پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جواب دیا کہ ’’بجلی نرخوں میں کوئی من مانی اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی جانبداری برتی جا رہی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر رکن اسمبلی کو عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک رکن کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔‘‘ ان کے مطابق ’’ہم سب پہلے ایم ایل اے ہیں، بعد میں وزیر بنتے ہیں، اس لیے عوام کی بات سننا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’’ویری رات کو سکون سے سوئیں، کیونکہ نیند پوری نہ ہونے سے حادثات بھی پیش آ سکتے ہیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل ہی بشیر احمد ویری ایک حادثے کے بعد جموں کے اسپتال میں زیر علاج رہے تھے، جہاں وزیر اعلیٰ سمیت کئی وزراء اور ارکان اسمبلی نے ان کی عیادت کی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے آخر میں کہا کہ ’’مسائل کا حل جمہوری طریقے سے ہی نکلتا ہے اور عوامی نمائندوں کو میدان میں رہ کر لوگوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔






