جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس ہفتے جموں کشمیر میں 14 سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا جو گزشتہ سال اپریل میں پہلگام کے بائسرن حملے کے بعد سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بند دیے گئے تھے۔ایل جی منوج سنہا نے اپنے ایکس ہینڈل پر یہ اعلان کرتے ہوئے، کہا کہ مکمل حفاظتی جائزہ اور بحث کے بعد، انہوں نے کشمیر اور جموں صوبوں میں ایسے مزید سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے جنہیں احتیاطی اقدام کے طور پر عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلان کیا کہ کشمیر ڈویژن کے گیارہ سیاحتی مقامات — یوسمرگ، دودھ پتھری، کوکرناگ میں ڈنڈی پورہ پارک، پیر کی گلی، شوپیان کے دبجن اور پڈپاون،آستان پورہ، سری نگر میں ٹیولپ گارڈن ، گاندربل میں تھجواس گلیشیر اور ہینگ پارک، اور بارہمولہ میں وولر اور وٹلب— کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں ڈویژن کے تین سیاحتی مقامات — ریاسی میں دیوی پنڈی، رامبن میں مہو منگت اور کشتواڑ میں مغل میدان — کو بھی فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے سے دس دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 6 فروری کو جموں کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی۔وزیر داخلہ کے دورے سے ایک دن قبل جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں کہا تھا کہ وہ بند سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ وزیر داخلہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔ جبکہ اس سے قبل انہوں نے کہیں بار کہا کہ حالات جموں کشمیر میں اس سے پہلے بھی خراب ہوئے ہیں لیکن انہوں نے سیاحتی مقامات کو کبھی بند نہیں کیا۔
عمر عبداللہ نے سیاحتی مقامات کے کھولے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا:”میں سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے پر وزیر داخلہ کا شکر گزار ہوں۔ حال ہی میں میری جموں میں وزیر داخلہ سے بات ہوئی تھی اور اس سے قبل میں دہلی میں بھی اُن سے ملا تھا۔ وزیر داخلہ نے مجھے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ سیاحتی مقامات کھول دیے جائیں گے، اور اب اس حوالے سے باقاعدہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔” وہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ سے سیاحتی مقامات کی بندش کا کوئی خاص مقصد حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ملی ٹنسی کے بدترین دور میں بھی منتخب حکومت نے سیاحتی مقامات کو بند نہیں کیا تھا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان مقامات کی بندش کے باعث مقامی لوگوں کو شدید مشکلات اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ سیاحت یہاں کے عوام کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
سیاحتی مقامات بند کیوں تھے؟
دراصل 22 اپریل 2025 کو نے پہلگام کی بائسران وادی میں ہوئے بڑے حملے میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی گھوڑے بان مارے گئے تھے۔ اس حملے کے بعد ایل جی انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر 48 سیاحتی مقامات کو بند کر دیا تھا۔
جن میں مرحلہ وار طریقے سے پچھلے سال کچھ اہم سیاحتی مقامات، پہلگام، گلمرگ، سونمرگ، اور سری نگر کے مغل باغات سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولے گئے۔ اس تازہ حکم نامے کے بعد 48 بند سیاحتی مقامات میں سے 42 مقامات کو کھول دیا گیا ہے۔
ان سیاحتی مقامات کے کھولے جانے سے اس شعبے سے جڑے افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان سیاحتی مقامات پر گھوڑے بان اور چھوٹے ہوٹل مالکان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا۔






