امت نیوز ڈیسک //
جموں، 20 فروری : جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کے روز اس وقت مختصر مگر تیز جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا جب نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی ہلال اکبر لون نے پی ڈی پی کے ایم ایل اے آغا منتظر مہدی کی جانب سے سمبل میں جے کے بینک کی نئی شاخ کھولنے کے مطالبے پر اعتراض کیا۔
ایوان کی کارروائی کے دوران آغا منتظر مہدی نے سمبل میں جے کے بینک برانچ قائم کرنے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مقامی عوام نے ان سے رجوع کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ ایوان میں پیش کیا جائے۔
تاہم اس مطالبے پر سوناواری حلقے کی نمائندگی کرنے والے ہلال اکبر لون نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ وہ اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور اسے اپنے حلقہ انتخاب میں مداخلت قرار دیا۔
ہلال اکبر لون نے کہا، “یہ میرا علاقہ ہے، وہاں کے عوام کی نمائندگی میں خود کروں گا۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ سوناواری سے متعلق امور اسی حلقے کے منتخب نمائندے کو اٹھانے چاہئیں۔
اس پر آغا منتظر مہدی نے جواب دیا کہ بطور رکن اسمبلی انہیں یہ حق حاصل ہے کہ عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو ایوان میں اٹھائیں، چاہے وہ کسی بھی حلقے سے متعلق کیوں نہ ہوں۔
کچھ دیر تک دونوں اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا، جس کے بعد اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کیا اور ایوان کی کارروائی دوبارہ معمول کے مطابق جاری رہی۔





