امت نیوز ڈیسک //
ریاست جھارکھنڈ کے ضلع چترا میں پیر کی شام ایک افسوسناک فضائی حادثہ پیش آیا جب ریڈ برڈ ایئر ویز پرائیویٹ لمیٹڈ کی ایئر ایمبولینس، جو رانچی سے دہلی جا رہی تھی، پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گئی۔ اس المناک حادثے میں مریض، ڈاکٹر، نرس اور دونوں پائلٹ سمیت کل سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جس کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ حکام کے مطابق طیارے نے شام 7 بج کر 11 منٹ پر رانچی ہوائی اڈے سے اڑان بھری، تاہم تقریباً بیس منٹ بعد فضائی رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ بعد ازاں تلاش کے دوران طیارے کا ملبہ سمریا کے قریب بریاتو پنچایت کے گھنے جنگلاتی علاقے میں پایا گیا، جہاں امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ریسکیو کارروائیاں شروع کیں اور علاقے کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا۔
ضلع انتظامیہ کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، این ڈی آر ایف اور مقامی انتظامیہ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ایس ڈی پی او شبھم کھنڈیلوال نے تصدیق کی کہ طیارے میں سوار تمام سات افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں اور قانونی کارروائی کے بعد انہیں پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پائلٹ وویک وکاس بھگت، سبراج دیپ سنگھ، مریض سنجے کمار، ان کی رشتہ دار ارچنا دیوی اور دھورو کمار، ڈاکٹر وکاس کمار گپتا اور نرس سچن کمار مشرا شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مریض کو بہتر طبی علاج کی غرض سے دہلی منتقل کیا جا رہا تھا۔
دیوکمل اسپتال کے سی ای او اننت سنہا نے بتایا کہ مریض سنجے کمار ضلع لاتیہار کے علاقے چندوا کے رہائشی تھے اور 16 فروری کو 65 فیصد جھلسنے کے باعث اسپتال میں داخل کیے گئے تھے۔ اہل خانہ نے ان کی نازک حالت کے پیش نظر ایئر ایمبولینس کے ذریعے دہلی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ رانچی ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر ونود کمار کے مطابق پرواز نے اڑان بھرنے کے تقریباً بیس منٹ بعد ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کھو دیا تھا۔ ابتدائی طور پر خراب موسم کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
شہری ہوا بازی کے نگران ادارے ڈی جی سی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ 23 فروری 2026 کو بیچ کرافٹ سی 90 طیارہ میڈیکل ایویکویشن مشن پر تھا اور شام 7 بج کر 34 منٹ پر اس کا ریڈار اور ریڈیو رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ حادثے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی ٹیم کو موقع پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تکنیکی جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات واضح ہوں گی۔ ریسکیو ٹیموں نے رات بھر سرچ آپریشن جاری رکھا جبکہ مقامی افراد نے بھی امدادی کارروائیوں میں انتظامیہ کی مدد کی۔ حکام نے عوام سے افواہوں سے گریز اور صرف سرکاری معلومات پر اعتماد رکھنے کی اپیل کی ہے۔




