امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ، 26 فروری (کے این ایس): پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز وزیر اعظم مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ عوامی روابط پر اعتراض اٹھایا ہے، جو غزہ میں جاری تنازع کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
اننت ناگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر نے کہا کہ ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد آبادی کے سربراہِ حکومت ہونے کے ناطے وزیر اعظم کو ایسے مواقع پر عالمی سطح پر جانے والے پیغام کا خاص خیال رکھنا چاہیے، خصوصاً جب غزہ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا کہ جاری تنازع میں شہری ہلاکتوں کے معاملے پر نیتن یاہو کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور انہیں “بین الاقوامی مجرم” قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ممالک میں غزہ جنگ سے متعلق الزامات کے تحت ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “وزیر اعظم کو ایسے رہنماؤں کے ساتھ گلے ملتے ہوئے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے تاریخی طور پر عالمی معاملات میں ایک اخلاقی مؤقف اختیار کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سفارتی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی امن اور انصاف کے اصولوں کی عکاسی کرے۔(کے این ایس)





