امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 28 فروری 2026: ماہِ مبارک رمضان کے دوسرے جمعہ کے موقع پر تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے نمازِ جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
میرواعظ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین کے عوام اسرائیل کے ہاتھوں مسلسل ظلم و ستم کا شکار ہیں اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کو مزید جارحانہ اقدامات کی شہ مل رہی ہے اور وہ مغربی کنارے میں غیر قانونی قبضوں کو باقاعدہ شکل دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو ان کی اپنی سرزمین سے محروم کرنا عالمی قوانین اور انسانی ضمیر کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ میرواعظ کے مطابق جب تک فلسطینی عوام کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا اور قبضہ ختم نہیں ہوتا، خطہ بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رہے گا۔
میرواعظ نے کہا کہ امریکہ کی خطے میں بھاری فوجی موجودگی اور ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کی خبریں انتہائی خطرناک ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ایران کے ساتھ گہرے تہذیبی اور تعلیمی روابط ہیں اور بڑی تعداد میں کشمیری طلبہ ایران میں زیرِ تعلیم ہیں، جس سے ان کے اہلِ خانہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام اور وہاں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے دعا کی۔
میرواعظ نے اپنے خطاب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو مسلم ممالک کا رمضان جیسے مقدس مہینے میں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ جنگ ہمیشہ انسانی جانوں کے ضیاع اور تباہی کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ہمسایہ ممالک دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختلافات کو مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حل کریں گے۔





