اسلامی کلینڈر کا مقدس مہینہ رمضان المبارک آتے ہی وادیٔ کشمیر میں روزمرہ زندگی بدلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بازاروں میں چہل پہل اور غیر معمولی رش دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ گھروں میں سحری اور افطار کی تیاری خاص اہتمام اور عقیدت کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اس مقدس مہینے میں ضروری اشیائے خورد و نوش کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔پھل، سبزیاں، گوشت، چکن، کھجوریں، بیکری آئٹمز اور خشک میوہ جات کی فروخت اچانک بڑھ جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ اکثر قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جس سے عام صارفین متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے میں انتظامیہ کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے، ذخیرہ اندوزی روکی جائے اور عوام کو مناسب نرخوں پر معیاری اشیا دستیاب ہوں۔اس سال بھی ماہِ رمضان شروع ہوتے ہی محکمہ فوڈ سیفٹی اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹ چیکنگ تیز کی گئی۔ اس کا مقصد ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور ناقص یا زائد المعیاد اشیا کی فروخت کو روکنا ہے۔ کئی اضلاع میں ٹیموں نے متعدد دکانوں پر نرخ نامے آویزاں نہ ہونے، وزن و پیمائش کے آلات میں بے ضابطگیوں اور صفائی کے ناقص انتظامات پر جرمانے عائد کیے۔ بعض مقامات پر زائد المعیاد اشیا ضبط کر کے تلف کی گئیں، جبکہ چند دکانداروں کو وارننگ نوٹس بھی جاری کیے گئے۔
دوسری جانب حال ہی میں فوڈ سیفٹی حکام کی جانب سے کانپور میں کیے گئے چھاپوں کے دوران چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق حکام نے ایک ہول سیلر کے یہاں سے تقریباً 10,000 کلو گرام ایکسپائر شدہ کھجوروں کی کھیپ ضبط کی، جس کی مالیت لگ بھگ 50 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ جانچ کے لیے نو نمونے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔اسی طرح سری نگر کے نوہٹہ علاقے سے 1,380 کلو گرام بغیر لیبل کھجوریں ضبط کی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ایف ایس ڈی سری نگر یامین النبی کے مطابق خصوصی رمضان مہم کے تحت قمر واری سے شروع ہونے والی کارروائی نوہٹہ پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں ایک تاجر کے پاس سے بڑی مقدار میں ایسی کھجوریں برآمد ہوئیں جن پر نہ تیاری کی تاریخ درج تھی، نہ مدتِ معیاد اور نہ ہی سپلائر کا نام۔ مکمل اسٹاک موقع پر ہی ضبط کر لیا گیا۔سری نگر ہی نہیں بلکہ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں انجام دی گئیں۔ تاہم صارفین کی شکایت ہے کہ ان اقدامات کے باوجود ماہِ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سال بھر مارکیٹ چیکنگ کی کارروائیاں مؤثر انداز میں نظر نہیں آتیں، جس کے باعث قیمتیں اعتدال میں نہیں رہتیں اور اس کا بوجھ براہِ راست عام صارفین پر پڑتا ہے۔صرف ماہِ رمضان تک ضروری اشیائے خوردونوش کی چیکنگ محدود رکھنا بھی محکمہ فوڈ سیفٹی کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل اور مستقل نفاذ نہایت ضروری ہے۔ بازاروں کی نگرانی محض رمضان تک محدود ایک موسمی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ قیمتوں میں ہیرا پھیری عید سے پہلے، سخت سردیوں کے دوران، یا جب سری نگر۔جموں شاہراہ بند ہو، کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔
سال بھر اچانک معائنوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے تو قانون کی پاسداری کا رجحان مضبوط ہوگا۔ جب تاجروں کو یقین ہو کہ نگرانی کسی ایک مہینے تک محدود نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر جاری ہے، تو وہ قواعد و ضوابط کی پابندی زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کریں گے۔ یہی طرزِ عمل نہ صرف صارفین کے مفاد میں ہے بلکہ ایک منظم اور منصفانہ بازار کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔





