امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 27 فروری 2026: دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز سابق وزیر اعلیٰ کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سسودیا کو دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ اپنے الزامات کے حق میں قابلِ اعتبار شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مبینہ بڑی سازش اور مجرمانہ نیت کے دعوے عدالتی جانچ پر پورے نہیں اترے۔ ریکارڈ پر موجود مواد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایکسائز پالیسی کی تیاری انتظامی مشاورت اور ادارہ جاتی غور و خوض کے ذریعے کی گئی، نہ کہ کسی غیر قانونی مقصد کے تحت۔
عدالت نے کہا کہ سنگین الزامات کو ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے اور بغیر ثبوت کسی فرد کو مرکزی سازش کا کردار قرار دینا مناسب نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر استغاثہ کے دعوے مواد سے ثابت نہ ہوں تو اس سے عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
منیش سسودیا کو بری کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ عدالتی جانچ میں برقرار نہیں رہ سکا اور ان کے خلاف کسی مجرمانہ نیت کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ عدالت کے مطابق دستاویزات اور بیانات کو مجموعی طور پر پڑھنے سے انتظامی سطح پر مشاورت کا عمل ظاہر ہوتا ہے۔
سی بی آئی کی تفتیش پر سوال
عدالت نے سی بی آئی کی تفتیش پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کچھ بیانات اور ماہرین کی آراء کو ریکارڈ کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا، اس کی وضاحت ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ تین قانونی ماہرین کی رائے کو استغاثہ نے اپنے حق میں کیسے پیش کیا۔
مزید برآں عدالت نے استغاثہ کی جانب سے استعمال کی گئی اصطلاح “ساؤتھ گروپ” پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کی واضح قانونی بنیاد اور شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
کیجریوال کا ردعمل
فیصلے کے بعد اروند کیجریوال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “سچ ہمیشہ جیتتا ہے” اور وہ عدالت کے شکر گزار ہیں کہ انصاف فراہم کیا گیا۔ انہوں نے اس مقدمے کو آزاد ہندوستان کی “سب سے بڑی سیاسی سازش” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد عام آدمی پارٹی کی قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔
کیجریوال نے کہا کہ انہیں چھ ماہ تک جیل میں رکھا گیا جبکہ منیش سسودیا تقریباً دو سال قید میں رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقتدار چاہیے تو عوام کی خدمت کے ذریعے حاصل کیا جائے، نہ کہ سیاسی انتقام کے ذریعے۔
عدالتی فیصلے کے بعد قومی دارالحکومت کی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور اس کے ممکنہ سیاسی اثرات پر تبصرے جاری ہیں۔




