امت نیوز ڈیسک//
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ جمعہ کی صبح پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت دو دیگر صوبوں میں فضائی حملے کیے، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2025 میں قطر کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی پہلے ہی کمزور دکھائی دے رہی تھی۔
کابل میں دھماکے
عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کی صبح کابل میں کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ افغان حکام کے مطابق حملے قندھار اور جنوب مشرقی علاقوں میں بھی کیے گئے۔
پس منظر
گزشتہ کئی ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ افغان طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کی رات پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ اتوار کے روز ہونے والی پاکستانی فضائی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا۔ افغان وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں 55 پاکستانی فوجی ہلاک جبکہ متعدد کو گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق صرف دو پاکستانی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 36 افغان جنگجو مارے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کو “کچلنے کی مکمل صلاحیت” رکھتی ہیں اور پوری قوم افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔
سرحدی صورتحال
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2,611 کلومیٹر طویل سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اکتوبر میں ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد سے بیشتر سرحدی گزرگاہیں بند ہیں۔
طورخم بارڈر کے قریب ایک مہاجر کیمپ کو خالی کرایا جا رہا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق 13 شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ پاکستانی جانب بھی مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی خطرے میں
قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والی ابتدائی جنگ بندی اور مذاکرات کے باوجود مستقل امن معاہدہ نہ ہو سکا۔ حالیہ واقعات نے اس جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔




