امت نیوز ڈیسک //
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے تصدیق کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ سری نگر، جموں، رامبن، اننت ناگ اور بانڈی پورہ سمیت کئی علاقوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور سوگ کا اظہار کیا۔ سری نگر کے تاریخی لال چوک میں سینکڑوں افراد جمع ہوئے، جہاں مظاہرین نے خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ حکام کے مطابق بعض حساس علاقوں میں احتیاطاً انٹرنیٹ سروس کو بند کر دیا گیا جبکہ متعدد بازار بند رہے۔
جموں اور رامبن میں جلوس
جموں کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ضلع رامبن کے چندررکوٹ میں امام باڑہ سے جامع مسجد تک جلوس نکالا گیا، جس میں مقامی مذہبی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی۔
حکومتِ جموں و کشمیر نے صورتحال کے پیش نظر تمام اسکول اور کالج دو دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ طلبہ کی سلامتی کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے افواہوں سے گریز کی ہدایت دی ہے۔ مختلف اضلاع میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
مجموعی طور پر وادی کشمیر اور جموں خطے میں احتجاج پُرامن رہا، تاہم انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہے اور حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔






