امت نیوز ڈیسک //
راجستھان، 11 مارچ : راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 17 کشمیری نرسنگ طلبہ کو بدھ کے روز چتوڑ گڑھ کی سب ڈویژنل جیل میں دو دن گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ طلبہ کو نرسنگ پروگرام کی منظوری سے متعلق تنازعے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
یہ طلبہ اس وقت زیرِ حراست لیے گئے جب یونیورسٹی کیمپس میں اس الزام پر کشیدگی پیدا ہوئی کہ یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیا جانے والا بی ایس سی نرسنگ کورس راجستھان نرسنگ کونسل سے منظور شدہ نہیں ہے۔
اس پیش رفت نے پروگرام میں زیرِ تعلیم کئی طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر خدشات پیدا کر دیے ہیں، جن میں سے متعدد طلبہ اپنی تعلیم کے آخری سال میں ہیں۔
طلبہ کے مطابق انہوں نے تعلیمی سال 2022-23 کے دوران جموں و کشمیر اسپیشل اسکالرشپ اسکیم (JKSSS) کے تحت اس نرسنگ پروگرام میں داخلہ لیا تھا۔ طلبہ کا الزام ہے کہ یونیورسٹی میں جاری یہ کورس راجستھان نرسنگ کونسل سے لازمی منظوری حاصل نہیں کر سکا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب طلبہ خود راجستھان نرسنگ کونسل کے دفتر گئے اور کورس کی منظوری کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ کونسل کے حکام نے انہیں بتایا کہ یونیورسٹی کی جانب سے نرسنگ پروگرام کی منظوری کے لیے کوئی درخواست یا فائل زیرِ غور نہیں ہے۔
طلبہ کے مطابق اس صورتحال نے ان کے تعلیمی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو اپنی ڈگری مکمل کرنے کے قریب ہیں۔
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن جموں و کشمیر یونٹ کے صدر ڈاکٹر محمد مومن خان نے راجستھان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور طلبہ کے خدشات کو دور کرے۔
ڈاکٹر خان نے کہا کہ “ہم راجستھان حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ جن طلبہ نے اپنے کورس کی منظوری کے حوالے سے جائز خدشات اٹھائے ہیں، ان کے خلاف کوئی انتقامی یا تادیبی کارروائی نہ کی جائے۔”
انہوں نے بتایا کہ طلبہ نے اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں وضاحت حاصل کرنے کے لیے پُرامن احتجاج کیا تھا اور پروگرام کی منظوری کے حوالے سے شفافیت کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈاکٹر خان نے اس بات کی بھی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ آخر ایسے نرسنگ پروگرام میں طلبہ کو داخلہ کیسے دیا گیا جس کے پاس مبینہ طور پر مطلوبہ قانونی منظوری موجود نہیں تھی۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ طلبہ کے تعلیمی مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
طلبہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں کسی منظور شدہ اور تسلیم شدہ نرسنگ ادارے میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کی تعلیم بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
اس واقعے کے بعد پیشہ ورانہ تعلیمی پروگراموں میں ضابطہ جاتی پابندیوں اور طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔




