امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیوں اور سینئر لیڈران نے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبد اللہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بی جے پی اور کانگریس سمیت یوٹی کے تمام سینئر سیاسی لیڈران اور شخصیات نے جموں میں ایک شادی تقریب کے دوران ہوئے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مولوی عمر فاروق کا جانچ کا مطالبہ
میر واعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے اس واقعے کو تشویشناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”جموں میں ایک تقریب کے دوران ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب کی زندگی پر حملے کی خبر تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ یہ جان کر تسلی ہوئی کہ وہ محفوظ ہیں۔” اسی کے ساتھ انہوں نے اس حملے کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ”کوئی شخص ہتھیار کے ساتھ ان کے اتنا قریب کیسے پہنچا اور اس پر گولی چلا دی، اس کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔”
کانگریس لیڈر طارق قرہ کی شدید مذمت
جموں و کشمیر کانگریس اکائی کے صدر و رکن اسمبلی طارق قرہ نے اس واقعے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ”آج جموں میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ صاحب اور دیگر سینئر لیڈران پر ہوئے فائرنگ کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس نوعیت کی تشدد کی وارداتیں سخت پریشان کن ہیں اور خطے میں موجودہ سکیورٹی کے منظرنامے کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔”
طارق حمید قرہ نے مزید کہا کہ یو ٹی میں ”بڑھتی ہوئے جرائم اور لاقانونیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جن کو امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ عوام تحفظ، استحکام اور محفوظ ماحول کے مستحق ہیں اور یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔”
سجاد لون کا رد عمل
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون نے بھی اس حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”ڈاکٹر فاروق صاحب، سریندر چودھری اور ناصر اسلم پر ہوئی بزدلانہ فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔”
روح اللہ مہدی کا اظہار تشویش
وہیں جموں و کشمیر سے رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدی نے بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے دفتر نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدی نے جموں میں رپورٹ ہونے والے اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی جس میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب وزیر اعلی سریندر چودھری پر شادی تقریب کے دوران فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کی ایسی وارداتیں شدید تشویش کا باعث ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ قصورواروں کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔
بی جے پی رہنما رویندر رینا کا رد عمل
جموں کشمیر بی جے پی اکائی کے سابق صدر رویندر رینا اس واقعے پر سب سے پہلے رد عمل دینے والوں میں شامل تھے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "جموں شہر میں رات گئے شادی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا ہے، یہ انتہائی تشویشناک اور انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ اس تقریب میں جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی موجود تھے۔ جموں و کشمیر پولیس نے گولیاں چلانے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے، اور تمام سیکورٹی ایجنسیاں جموں پولیس کے ساتھ مل کر جانچ میں مصروف ہیں۔”
اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ”تاہم جموں و کشمیر پولیس کے سینئر حکام کا خیال ہے کہ اس شوٹنگ میں کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ سازش شامل نہیں ہے، لیکن پھر بھی، وہ تمام پہلوؤں سے جانچ کر رہے ہیں… شکر ہے کہ فاروق عبداللہ سمیت شادی کی تقریب میں موجود تمام افراد محفوظ ہیں۔”
کابینہ وزیر ستیش شرما نے حملے پر اٹھائے سوال
عمر عبد اللہ حکومت میں کابینہ وزیر ستیش شرما نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مختلف سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اپنے رد عمل میں کہا کہ ”میں اپنے قائد سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر ہوئے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ زیڈ پلس سکیورٹی یافتہ سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ پیش آیا یہ سنگین واقعہ گہرے پریشان کن سوالات کو جنم دیتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟”
انہوں نے مزید کہا کہ ”میں خود شادی کی تقریب میں موجود تھا اور فائرنگ کے حملے کے بعد صرف جائزہ لینے کے لیے وہاں ٹھہرا رہا۔ اس پر سب نے مذمت کی اور ایک آواز میں کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کس طرح نفرت میں ڈوبے اور جرائم پیشہ افراد ہماری امن پسند ریاست میں دندناتے پھر رہے ہیں، امن و امان کی صورت حال بدترین ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کا شمار ملک کے سب سے قدآور لیڈران میں ہوتا ہے۔ وہ ایک ویژنری، ایک اسٹیٹس مین، انتہائی سیکولر اور عظیم انسان ہیں۔ ماتا رانی ان پر اپنی کرپا بنائے رکھے۔ برائی کی ہمیشہ شکست ہوگی۔”
اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ”ہم سب کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ محفوظ ہیں۔ اس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جانی چاہیے اور اس سنگین حفاظتی کوتاہی کے لیے جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔ اس میں ملوث تمام افراد یا کسی بھی تنظیم کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے۔”
واضح رہے کہ یہ واقعہ جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں رائل پارک بینکوئٹ ہال میں رونما ہوا جہاں یوٹی کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک پارٹی لیڈر کی بیٹی کی شادی تقریب میں شرکت کرنے گئے تھے۔ اسی دوران کمل سنگھ جموال کے نام کے ایک 68 سالہ شخص نے اپنی پستول سے فاروق عبداللہ کو بالکل قریب سے گولی مارنے کی کوشش کی۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی چوکسی کی وجہ سے وہ بال بال بچ گئے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔




