امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگی صورتحال کے درمیان وہاں پھنسے تقریباً 100 بھارتی طلبہ، جن میں اکثریت کشمیر سے تعلق رکھتی ہے، 14 اور 15 مارچ کو کمرشل پروازوں کے ذریعے وطن واپس آئیں گے۔ یہ طلبہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران واپس آنے والا پہلا بڑا گروپ ہوگا۔
ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی نے بتایا کہ طلبہ پہلے زمینی راستے سے آرمینیا کے دارالحکومت یروان کے زوارتنوتس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں گے اور وہاں سے کمرشل پروازوں کے ذریعے بھارت روانہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر طلبہ 14 مارچ کو جبکہ باقی 15 مارچ کو بھارت پہنچنے کی توقع ہے۔ طلبہ نے پہلے ہی اپنی پروازوں کے ٹکٹ بک کر لیے ہیں اور جمعرات کو ایران کے مختلف علاقوں، خاص طور پر ارومیہ شہر سے آرمینیا کی سرحد کی جانب روانہ ہوں گے۔
ناصر خوہامی کے مطابق طلبہ فلائی دبئی کی پروازوں کے ذریعے سفر کریں گے۔ یہ پروازیں دبئی کے راستے دہلی پہنچیں گی، جہاں سے طلبہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نئی دہلی پر اتریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کی پہلی بڑی کھیپ فلائی دبئی کی پرواز FZ8124 کے ذریعے روانہ ہوگی۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اس سے قبل وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور وزارت خارجہ سے اپیل کی گئی تھی کہ طلبہ کو آرمینیا کے زمینی راستے سے محفوظ سفر کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس وقت ایران کے شمال مغربی حصے سے نکلنے کے لیے یہی سب سے محفوظ اور قابلِ عمل راستہ ہے۔
ناصر خوہامی نے کہا کہ وزارت خارجہ نے اس درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے ضروری اجازت نامے فراہم کیے، جس کے بعد طلبہ نے اپنے سفری انتظامات مکمل کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام، سیکریٹری خارجہ اور بھارت میں ایرانی سفیر کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران بتایا گیا کہ فی الحال ایران میں موجود بھارتی طلبہ کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ انخلا منصوبہ موجود نہیں ہے اور جو طلبہ واپس آ رہے ہیں وہ کمرشل پروازوں کے ذریعے اپنے طور پر سفر کر رہے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق وزارت خارجہ نے ایران میں موجود طلبہ کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ اپنی درست لوکیشن یا ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں تاکہ ان کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
ناصر خوہامی نے کہا کہ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور وزارت خارجہ اور جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر ان کے سفر، سلامتی اور بھارت پہنچنے کے انتظامات میں تعاون کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر سوگامی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور نئی دہلی کے آئی جی آئی ایئرپورٹ پر کشمیر کے طلبہ کو گھر پہنچانے کے لیے ڈیلکس اے سی بسوں کا انتظام کیا جائے گا۔ یہ بسیں 14 اور 15 مارچ کو آنے والے طلبہ سمیت بعد میں مختلف راستوں سے پہنچنے والے طلبہ کو بھی سہولت فراہم کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے سے بھارتی طلبہ کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔



