امت نیوز ڈیسک //
بھارت کی مرکزی حکومت نے موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کی نظر بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں گزشتہ سال ستمبر میں لیہہ میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
وانگچک کو این ایس اے کے تحت گرفتار کر کے جودھپور کی جیل میں رکھا گیا تھا۔ حکام کے مطابق انہیں علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔
حکومت نے ہفتہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ وہ لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام پہلوؤں پر غور کے بعد سونم وانگچک کی نظر بندی فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت نے مزید کہا کہ وہ لداخ میں مختلف اسٹیک ہولڈرز اور کمیونٹی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ علاقے کے عوام کی امیدوں اور خدشات کو دور کیا جا سکے۔
تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ ہڑتالوں اور مظاہروں کے ماحول نے معاشرے کے مختلف طبقات کو متاثر کیا ہے، جن میں طلبہ، ملازمت کے خواہشمند، کاروباری حضرات، ٹور آپریٹرز، سیاح اور خطے کی مجموعی معیشت شامل ہیں۔




