سرینگر، 13 مارچ 2026:
انجمن اوقاف جامع مسجد نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ جمعتہ الوداع کے موقع پر تاریخی جامع مسجد سرینگر کو مسلسل بند رکھنے کی شدید مذمت کی ہے۔ اس دن روایتی طور پر ہزاروں عقیدت مند شہر اور دیہات سے آکر اجتماعی نماز اور دعاؤں میں شرکت کرتے ہیں۔
انجمن اوقاف کے مطابق حکام نے ایک بار پھر مسجد کے تمام دروازے بند کر دیے اور میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کر دیا، جس کے باعث وہ اس مقدس موقع پر خطبہ دینے اور نماز کی امامت کرنے سے محروم رہے۔
انتظامیہ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل ساتویں سال مسلمانوں کو وادی کی مرکزی عبادت گاہ میں جمعتہ الوداع کی نماز ادا کرنے سے محروم رکھا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کی پابندیاں نہ صرف عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتی ہیں بلکہ عبادت گزاروں کے اس بنیادی حق کی بھی خلاف ورزی ہیں کہ وہ اللہ کے گھر میں نماز ادا کریں۔
انجمن اوقاف نے مزید کہا کہ حکام کی اس پالیسی کے نتیجے میں سال بھر مختلف مواقع پر جامع مسجد کو من مانے طریقے سے بند کیا جاتا رہا ہے، جو مذہبی سرگرمیوں پر غیر ضروری پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اس صورتحال پر ردِ عمل دیتے ہوئے میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ رمضان کے آخری جمعہ کے دن جب ہزاروں لوگ جامع مسجد سرینگر میں نماز اور دعا کے لیے جمع ہوتے ہیں، اس وقت ایک بار پھر مسجد کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل ساتویں سال مسلمانوں کو اس بابرکت دن جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ میرواعظ نے مزید کہا کہ جس طرح رمضان کے دوران اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ کے دروازے بند کیے، ویسی ہی ایک تکلیف دہ صورتحال یہاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
میرواعظ کے مطابق:“ہمارے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اللہ کے گھروں کو اہلِ ایمان پر بند کیا جا رہا ہے۔”





