امت نیوز ڈیسک //
روم : کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے تنازع کے ذمہ دار رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد ختم کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ اتوار کے روز اپنے ہفتہ وار خطاب میں پوپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسیحیوں اور دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کی جانب سے وہ اس جنگ کے ذمہ دار رہنماؤں سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری جنگ بندی کی جائے تاکہ بات چیت کا راستہ دوبارہ کھل سکے۔
اگرچہ پوپ نے براہِ راست امریکہ یا اسرائیل کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا بیان اس جنگ کے تناظر میں آیا ہے جو ایران میں حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ پوپ نے خاص طور پر ایران میں ایک ابتدائی میزائل حملے کا ذکر کیا جس میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا اور جس میں 165 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملہ ممکنہ طور پر غلط یا پرانی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ویٹیکن کے ایک سرکاری اخبار نے اس حملے کے بعد اجتماعی قبروں کی تصاویر شائع کرتے ہوئے جنگ کے تباہ کن اثرات کو نمایاں کیا تھا۔ پوپ لیو نے کہا کہ وہ ان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں جن کے پیارے اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے حملوں میں مارے گئے۔ انہوں نے خاص طور پر لبنان میں پیدا ہونے والی انسانی بحران کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ویٹیکن کے مطابق جنوبی لبنان میں موجود مسیحی برادری کی حالت بھی خاص تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ برادری خطے میں مسیحیوں کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری اس جنگ کے دوران پوپ نے زیادہ تر سفارتی اور محتاط بیانات دیے ہیں تاکہ ٹرمپ کی قیادت میں جاری امریکی پالیسیوں کے ساتھ براہ راست سیاسی تصادم سے بچا جا سکے۔ تاہم ویٹیکن کے بعض اعلیٰ عہدیداروں اور کارڈینلز نے جنگ پر کھل کر تنقید کی ہے اور اسے اخلاقی طور پر ناقابلِ جواز قرار دیا ہے۔




