امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 17 مارچ: وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے واضح کیا ہے کہ ایل پی جی صارفین کے لیے بایومیٹرک آدھار تصدیق (eKYC) سب کے لیے لازمی نہیں ہے، اور اس حوالے سے پھیلنے والی خبروں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق eKYC کا عمل شفافیت بڑھانے کی معمول کی کوششوں کا حصہ ہے، نہ کہ کوئی نیا قانون۔
یہ وضاحت اُن خبروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ تمام ایل پی جی صارفین کو گیس سلنڈر ریفل حاصل کرنے کے لیے بایومیٹرک تصدیق کرانا ضروری ہوگا۔
حکام نے بتایا کہ eKYC صرف اُن صارفین پر لاگو ہوتا ہے جنہوں نے اب تک یہ عمل مکمل نہیں کیا۔ جن صارفین نے پہلے ہی eKYC مکمل کر لیا ہے، انہیں دوبارہ اس کی ضرورت نہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ پردھان منتری اُجولا یوجنا (PMUY) کے تحت مستفید ہونے والوں کے لیے eKYC سال میں صرف ایک بار ضروری ہے، اور وہ بھی مخصوص تعداد سے زیادہ ریفل پر سبسڈی حاصل کرنے کے لیے۔
حکام کے مطابق eKYC کا عمل آسان اور مفت ہے، اور اسے گھر بیٹھے بھی مکمل کیا جا سکتا ہے۔
وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ “ایل پی جی ریفل کی فراہمی کسی بھی صورت متاثر نہیں ہوگی”، اور صارفین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ eKYC کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا، اصل مستحقین کی نشاندہی کرنا اور سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنا ہے، تاکہ ڈپلیکیٹ یا جعلی کنکشن ختم کیے جا سکیں اور فائدہ صرف مستحق گھرانوں تک پہنچے۔
یہ وضاحت خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں کے صارفین کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔




