امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : حکومت میں وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور امور صارفین ستیش شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں کشمیر میں ایندھن اور ضروری اشیائے خوردونوش کا تقریباً 21 دن کا ذخیرہ ہے جبکہ عوام کو کسی بھی قسم کی بھی قلت سے بچانے کے لیے مٹی کے تیل (کیروسین ) کی سپلائی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
شرما نے ان باتوں کا اظہار وزیر اعلی عمر عبداللہ کی جانب سے ٹیولپ گارڈن کی افتتاحی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ "حکومت سپلائی کی صورحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔”
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی کیروسین فری خطہ قرار دیا جاچکا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں عوام کو سہولیت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے مٹی کے تیل کی فراہمی دوبارہ شروع ک ردی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ضروری اشیاء کی دستیابی برقرار رہے اور عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔”
شرما کے مطابق: "ہم عوام کے خادم ہیں، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی یا کالا بازاری میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی چاہے وہ کتنا بھی با اثر کیوں نہ ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کی قیادت میں حکومت خطے میں ترقی اور سیاحت کو فروغ کے لیے پر عزم ہے۔”
کشمیر کو ہندوستان کا سوئیٹزلینڈ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا "امسال خاص طور پر ٹیولپ گارڈن کے کھلنے کے بعد سیاحوں کی ریکارڈ تعداد کی آمد متوقع ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آنے والے سیاحوں کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خطے میں خوشحالی اور ترقی کو فروغ ملے۔




