امت نیوز ڈیسک //
جموں، 18 مارچ: جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راثر نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ اجلاس کی باقی سات نشستوں کے دوران تمام زیر التوا سوالات کو فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سرکاری محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متعلقہ سوالات کے جوابات جلد از جلد فراہم کریں۔
اسپیکر نے بتایا کہ اجلاس 27 مارچ کو دوبارہ شروع ہوگا، جو ایک ماہ سے زائد وقفے کے بعد منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال اجلاس میں توسیع کی ضرورت نہیں، تاہم اگر بعد میں کوئی اہم سرکاری کام سامنے آیا تو توسیع پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 450 سوالات ابھی زیر التوا ہیں، جنہیں باقی سات نشستوں میں نمٹانے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے روزانہ تقریباً 70 سوالات پیش کیے جائیں گے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کو پہلے ہی کئی جوابات موصول ہو چکے ہیں، تاہم صرف وہی سوالات شامل کیے جائیں گے جنہیں اسپیکر کی منظوری حاصل ہوگی۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 1500 سوالات موصول ہوئے تھے، جن میں سے بڑی تعداد نمٹائی جا چکی ہے جبکہ باقی سوالات اسٹارڈ اور نان اسٹارڈ زمروں میں شامل ہیں۔ اسٹارڈ سوالات پر ایوان میں بحث ہوتی ہے جبکہ نان اسٹارڈ سوالات کے تحریری جوابات دیے جاتے ہیں۔
ہر رکن اسمبلی کو بجٹ اجلاس کے دوران 20 سوالات پوچھنے کا حق حاصل ہے، جن میں 10 اسٹارڈ اور 10 نان اسٹارڈ سوالات شامل ہوتے ہیں۔ 90 رکنی ایوان میں 83 اراکین کو سوالات پوچھنے کی اجازت ہے، کیونکہ وزراء اور اسپیکر سوالات جمع نہیں کرا سکتے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ نے نجی اراکین کے بل بھی متعلقہ محکموں کو بھیج دیے ہیں تاکہ ان پر بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ باقی سات دنوں میں سے دو دن سرکاری امور، دو دن نجی بلوں اور دو دن نجی قراردادوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ بجٹ اجلاس کا آغاز 2 فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے ہوا تھا، جبکہ اجلاس 4 اپریل کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جائے گا۔





