امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس کے آخری روز حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی)، اس کی اتحادی جماعت کانگریس اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے اراکین نے گاندربل کے ارہامہ علاقے میں مبینہ انکاؤنٹر کے دوران ایک عام شہری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے لواحقین کو باعزت تدفین کا حق دینے کی بھی اپیل کی۔
ہفتہ کے روز جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، این سی، کانگریس اور پی ڈی پی کے تمام ایم ایل ایز اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور مبینہ فرضی انکاؤنٹر کے خلاف احتجاج درج کیا۔ گاندربل کے ارہامہ علاقے میں فوج نے یکم اپریل کو ایک انکاؤنٹر کے دوران ایک ملی ٹنٹ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تاہم بعد ازاں معلوم ہوا ہے کہ ہلاک کیا جانے والا مقامی شہری تھا۔
این سی کے ایم ایل اے مبارک گل نے اسمبلی میں کہا کہ "اس قتل کی مذمت کی جانی چاہیے اور عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان واضح فرق ہونا ضروری ہے۔” این سی کے ایک اور ایم ایل اے جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے کہا کہ "باعزت تدفین ہر ایک شہری کا آئینی حق ہے، اس لیے میت کو اہل خانہ کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ متوفی کا آخری دیدار کر سکیں اور مناسب تدفین انجام دے سکیں۔”
کانگریس کے ایم ایل اے نظام الدین بٹ نے بھی لواحقین کو تدفین کا حق دینے کا مطالبہ اور مجسٹریٹ سطح کی انکوائری کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا: "ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سطح کے ایک افسر کو کام کے دوران دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا و ہ کما حقہ انکوائری انجام نہیں دے سکتا۔” این سی کے ایم ایل اے میر سیف اللہ نے عدالتی یا مجسٹریٹ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اراکین کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر پہلے ہی مقررہ وقت میں مجسٹریریل انکوائری کا حکم دے چکے ہیں۔” ادھر، کانگریس کے ایم ایل اے عرفان حفیظ لون اجلاس میں اس قتل کے خلاف ایک پوسٹر بھی لے کر آئے تھے۔






