توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
معانی:
توحید: خدا کی وحدانیت (صرف ایک معبود)
امانت: عقیدہ
سینوں میں: دلوں میں
نام و نشاں: ہستی، وجود
مطلب:
ہمارے دلوں میں اللہ کی وحدانیت کا عقیدہ ایک امانت کی طرح محفوظ ہے، جسے کوئی مٹا نہیں سکتا، اسی لیے ہمارا وجود بھی باقی رہے گا۔
۲.
باطل سے دبنے والے اے آسماں! نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
مطلب:
اس شعر میں اقبالؒ آسمان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ہم باطل سے دبنے والے نہیں ہیں۔ اے فلک! تو اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ تو ہمیں بارہا آزما چکا ہے، مگر ہم ثابت قدم رہے ہیں۔
"میں تمہیں مومن کی نشانی بتاتا ہوں: جب موت آتی ہے تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔”
علامہ اقبالؒ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ہمہ جہتی شخصیت تھے—شاعر، فلسفی، ماہرِ تعلیم، قانون دان، سیاسی رہنما اور سماجی مصلح۔ اس کے علاوہ وہ ایک سچے اور عاشقِ رسول ﷺ مسلمان تھے۔ حضور اکرم ﷺ اور قرآنِ مجید سے ان کی گہری محبت ان کے قول و فعل سے واضح ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
خروش آموزِ بلبل ہو، گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو اس گلستاں کے واسطے بادِ بہاری ہے
ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ ایک ایسی عظیم ہستی ہیں جنہیں دنیا "شاعرِ مشرق” کے نام سے جانتی ہے۔ اقبالؒ کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو ایک عظیم فکر عطا کی۔ انہوں نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اردو، فارسی اور انگریزی میں شاعری اور نثر دونوں کا سہارا لیا۔
اقبالؒ ایک انسان دوست اور عالمگیر مفکر تھے۔ ان کے افکار میں انسان کی عظمت، آزادی، خودی، اور عمل کی اہمیت نمایاں ہے۔ وہ نہ صرف سیاسی غلامی کے خلاف تھے بلکہ فکری غلامی، جہالت، غربت اور سماجی ناانصافی کے بھی مخالف تھے۔
اقبالؒ کے نزدیک زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ وہ حرکت اور عمل کے قائل تھے اور جمود کو موت سمجھتے تھے۔ ان کا فلسفہ انسان کو بیدار، متحرک اور باوقار بنانے پر مبنی ہے۔
علامہ اقبالؒ 21 اپریل 1938ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ روایت کے مطابق ان کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ تھی، جو ایک سچے مومن کی علامت ہے۔
"میں تمہیں مومن کی نشانی بتاتا ہوں: جب موت آتی ہے تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔”
اقبالؒ اور ان کی عظمت و شان، نیز ان کی شاعری کی پرتیں ایک وسیع موضوع ہیں جنہیں چند صفحات میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ یہ تحریر محض ایک ادنیٰ سی کوشش ہے انہیں سمجھنے کی۔
آخر میں اقبالؒ کے یہ اشعار:
اقبال اور اُن کی عظمت و شان، نیز اُن کی شاعری کی پرتیں بلا شبہ ایک وسیع موضوع ہیں، جنہیں چند صفحات میں سمیٹنا یا اُن پر تفصیلی گفتگو کرنا ممکن نہیں۔ لیکن یہ ایک ادنیٰ سی کوشش ہے اُنہیں سمجھنے کی، جو یہاں پیش کی گئی ہے۔
میں اپنی باتوں کو اقبال کے اِن چند مصرعوں کے ساتھ ختم کرنا چاہوں گا:
ہو نہ یہ پھُول تو بُلبل کا ترنُّم بھی نہ ہو
چَمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
دعا:
اللہ تعالیٰ ہمیں علامہ اقبالؒ کے افکار کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔






