امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے اور حلقہ بندی (ڈیلمیٹیشن) کے عمل کو تیز کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد بل مسترد کر دیا گیا۔
ووٹنگ کے دوران ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق بل کے حق میں 298 جبکہ مخالفت میں 230 ووٹ پڑے، تاہم آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت نہ ملنے کے باعث اسپیکر اوم برلا نے بل کی شکست کا اعلان کر دیا۔
اس بل کا مقصد پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنا اور نئی مردم شماری کے بغیر حلقہ بندی کے عمل کو آگے بڑھانا تھا، تاہم اپوزیشن نے اس کی سخت مخالفت کی۔
قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بحث کے دوران حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے کے بجائے ذات پات کی مردم شماری کو نظرانداز کرنے اور ملک کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے انہیں “بالاکوٹ، نوٹ بندی اور دیگر اقدامات کا جادوگر” قرار دیا، جس پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔
حکومتی وزراء، بشمول راجناتھ سنگھ اور کیرن رجیجو نے راہل گاندھی کے بیانات کو غیر پارلیمانی قرار دیتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔ یہ بل تین اہم قوانین آئینی ترمیم، ڈیلمیٹیشن بل اور یونین ٹیریٹریز ترمیمی بل کے ساتھ پیش کیا گیا تھا، جن کے ذریعے لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے انہیں تقریباً 850 تک لے جانے کی تجویز بھی شامل تھی۔
ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی اور سیاسی اختلافات کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا، جسے موجودہ سیاسی حالات میں حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔





