• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, اپریل ۲۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
بھارت نے زخم دئے، ان سے ہی مرحم لیں گے : الطاف بخاری

شوپیان کے دارالعلوم پر پابندی پر نظرِ ثانی کی جائے: الطاف بخاری

by امت ڈیسک
27/04/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے حکومت سے شوپیان میں واقع دارالعلوم پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے شوپیان کے امام صاحب علاقے میں قائم دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو یو اے پی اے کے تحت ایک غیر قانونی ادارہ قرار دیا ہے ۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس ادارے کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت اسلامی سے ہے اور انتہا پسندی سے متعلق خدشات بتائے گئے ہیں۔

انتظامیہ کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا: ’’میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ شوپیان کے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم پر عائد پابندی پر نظرِ ثانی کی جائے۔ ہزاروں طلبہ کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تقریباً 10 ہزار طلبہ اپنی تعلیم اور مستقبل کے لیے اس ادارے پر انحصار کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ اس ادارے سے ایسے افراد نکلے ہوں جنہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ اگر چند انفرادی مثالیں موجود بھی ہوں تو وہ محض استثنا ہیں۔ ملک میں کوئی بھی ادارہ، حتیٰ کہ آرمی اسکولز بھی، ایسے اُکے دُکے واقعات سے مکمل طور پر مبرا نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو افراد پہلے جماعت اسلامی سے وابستہ تھے، انہوں نے بعد میں ایک سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ (جے ڈی ایف) قائم کی، جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے رجسٹر بھی کیا۔ اگر انہیں آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی، تو طلبہ کو کیوں نقصان اٹھانا پڑے؟ لہٰذا حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ اس مسئلے کو تعمیری انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔ ادارے کی نگرانی کے لیے ایک مناسب انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ایک منصفانہ اور عملی قدم ہوگا تاکہ طلبہ متاثر نہ ہوں اور ان کی تعلیم بلا تعطل جاری رہے۔‘‘

سید محمد الطاف بخاری نے لکھا: “اس طرح کے تعلیمی اداروں پر پابندی جیسے اقدامات سے صرف عوام میں مایوسی پھیلے گی اور شکایات میں اضافہ ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتماد کے فقدان کو دور کیا جائے۔ موجودہ صورتحال مفاہمت اور بامعنی اعتماد سازی کے اقدامات کی متقاضی ہے تاکہ جموں و کشمیر میں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

شبیر احمد شاہ کی این آئی اے حراست میں 10 دن کی توسیع

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

شبیر احمد شاہ کی این آئی اے حراست میں 10 دن کی توسیع

شبیر احمد شاہ کی این آئی اے حراست میں 10 دن کی توسیع

27/04/2026
ڈوڈہ اسپتال تنازع: ڈاکٹرز نے کی ہڑتال ختم، او پی ڈی سروس بحال، ایم ایل اے کیخلاف مقدمہ درج

جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے آپ ایم ایل اے مہراج ملک کی پی ایس اے حراست کالعدم قرار دے دی

27/04/2026
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس پہنچ گئے، پیوٹن سے کریں گے ملاقات

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس پہنچ گئے، پیوٹن سے کریں گے ملاقات

27/04/2026
میں اور 1 کروڑ 40 لاکھ ایرانی جان قربان کرنے کو تیار: مسعود پیزیشکیان

ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے نئ تجاویز کی پیش

27/04/2026
شاپیاں:جامعہ سراج العلوم غیر قانونی قرار، یو اے پی اے کے تحت کارروائی

شاپیاں:جامعہ سراج العلوم غیر قانونی قرار، یو اے پی اے کے تحت کارروائی

27/04/2026
ایران کے وزیر خارجہ دوبارہ پاکستان پہنچ گئے، روس روانگی سے قبل اہم مشاورت

ایران کے وزیر خارجہ دوبارہ پاکستان پہنچ گئے، روس روانگی سے قبل اہم مشاورت

26/04/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »