امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے حکومت سے شوپیان میں واقع دارالعلوم پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے شوپیان کے امام صاحب علاقے میں قائم دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو یو اے پی اے کے تحت ایک غیر قانونی ادارہ قرار دیا ہے ۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس ادارے کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت اسلامی سے ہے اور انتہا پسندی سے متعلق خدشات بتائے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا: ’’میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ شوپیان کے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم پر عائد پابندی پر نظرِ ثانی کی جائے۔ ہزاروں طلبہ کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تقریباً 10 ہزار طلبہ اپنی تعلیم اور مستقبل کے لیے اس ادارے پر انحصار کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ اس ادارے سے ایسے افراد نکلے ہوں جنہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ اگر چند انفرادی مثالیں موجود بھی ہوں تو وہ محض استثنا ہیں۔ ملک میں کوئی بھی ادارہ، حتیٰ کہ آرمی اسکولز بھی، ایسے اُکے دُکے واقعات سے مکمل طور پر مبرا نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو افراد پہلے جماعت اسلامی سے وابستہ تھے، انہوں نے بعد میں ایک سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ (جے ڈی ایف) قائم کی، جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے رجسٹر بھی کیا۔ اگر انہیں آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی، تو طلبہ کو کیوں نقصان اٹھانا پڑے؟ لہٰذا حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ اس مسئلے کو تعمیری انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔ ادارے کی نگرانی کے لیے ایک مناسب انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ایک منصفانہ اور عملی قدم ہوگا تاکہ طلبہ متاثر نہ ہوں اور ان کی تعلیم بلا تعطل جاری رہے۔‘‘
سید محمد الطاف بخاری نے لکھا: “اس طرح کے تعلیمی اداروں پر پابندی جیسے اقدامات سے صرف عوام میں مایوسی پھیلے گی اور شکایات میں اضافہ ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتماد کے فقدان کو دور کیا جائے۔ موجودہ صورتحال مفاہمت اور بامعنی اعتماد سازی کے اقدامات کی متقاضی ہے تاکہ جموں و کشمیر میں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔‘‘





