امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 3 مئی: محبوبہ مفتی نے سراجُ العلوم ادارے پر مبینہ پابندی کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور کہا ہے کہ حکومت کی خاموشی دراصل اس فیصلے کی “خاموش تائید” کے مترادف ہے۔
گاندربل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ سراجُ العلوم محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، اور اس کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس ادارے کے خلاف کارروائی کو افسوسناک اور غیر منصفانہ قرار دیا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے الزام لگایا کہ منتخب حکومت اس معاملے پر “مجرمانہ خاموشی” اختیار کیے ہوئے ہے، جو اس اقدام کی بالواسطہ حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سراجُ العلوم کی بندش کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے مدینہ العلوم کو بھی بند کیا گیا تھا، جو ان کے مطابق ایک تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ ایسے اقدامات ایک وسیع تر سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہیں، جو بھاجپا کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہیں اور مقامی حکومت کی حمایت سے کیے جا رہے ہیں۔





