امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 13 مئی: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج کپواڑہ میں ’’نشہ مُکت جموں کشمیر مہم‘‘ کی پدیاترا میں شرکت کی اور ایک عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 32 دنوں کے دوران سول اور پولیس انتظامیہ نے منشیات اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور یہ عوامی تحریک اب منشیات کے خلاف ایک انقلاب کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل کارروائیوں سے نارکو ٹیرر نیٹ ورکس کمزور ہو رہے ہیں۔ کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں، اثاثے منجمد کیے گئے ہیں اور 15 اسمگلروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ 730 سے زائد منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اپریل میں جب اس مہم کا آغاز کیا گیا تو کئی لوگوں نے اس بات پر شک ظاہر کیا تھا کہ منشیات کے خلاف کوئی بڑی عوامی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن عوامی تعاون اور مضبوط حکمرانی نے اس مہم کو ایک وسیع عوامی تحریک میں بدل دیا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات اور دہشت گردی کو الگ الگ خطرات سمجھا جاتا تھا، لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی سانپ کے دو سر ہیں۔ ایک طرف منشیات سے پیسہ کمایا جاتا ہے اور دوسری طرف یہی رقم دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات اسمگلنگ خاندانوں اور سماج کو تباہ کر رہی ہے اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے نیٹ ورک کو توڑ کر دہشت گردی کی مالی سپلائی لائن ختم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کپواڑہ اور ہندواڑہ علاقوں میں مجموعی طور پر 28 منشیات اسمگلر جیل میں بند ہیں۔ انہوں نے پولیس، سرحدوں پر تعینات سکیورٹی فورسز اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس سے اپیل کی کہ کوئی بھی مجرم قانون کی گرفت سے بچ نہ پائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کپواڑہ کے ہر پولیس اسٹیشن کو اپنے علاقوں میں سرگرم منشیات فروشوں اور اسمگلروں کی مکمل تفصیلات جمع کرنے اور آئندہ 68 دنوں کے اندر فیصلہ کن کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بیداری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور منشیات کے عادی افراد کو مجرم کے بجائے ایک متاثرہ شخص سمجھتے ہوئے ان کی بازآبادکاری میں تعاون کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے عادی نوجوانوں کو ہمدردی، مشاورت اور علاج کی ضرورت ہے تاکہ انہیں دوبارہ سماج کے مرکزی دھارے سے جوڑا جا سکے۔
انہوں نے ’’نشہ مُکت جموں کشمیر ابھیان‘‘ پر تنقید کرنے والوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بے گناہ شخص کے خلاف غلط کارروائی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے، فوری ایکشن لیا جائے گا۔ تاہم اگر کوئی منشیات اسمگلروں کو بچانے کی کوشش کرے گا تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی چاہتے ہیں اور جب عوام متحد ہو جائیں تو کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔
اس موقع پر انہوں نے محکمہ جنگلات اور یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس کی جانب سے ’’نشہ مُکت جے اینڈ کے ابھیان‘‘ کے تحت منعقدہ کپواڑہ فاریسٹ لیگ اور والی بال چیمپئن شپ کی ٹرافیوں کی بھی رونمائی کی۔ بعد ازاں منشیات مخالف ریل میکنگ مقابلے کے فاتحین کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔






