امت نیوز ڈیسک //
بارہمولہ، 12 مئی : جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ منشیات کے خلاف مہم کے تحت جموں و کشمیر بھر میں دو لاکھ سے زائد عوامی آگاہی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جبکہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔
بارہمولہ میں ایک پیدل مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ، پولیس اور سول سوسائٹی مشترکہ طور پر منشیات کے ناسور کے خاتمے اور نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے، جن میں جائیدادوں کی ضبطی، لوک آؤٹ نوٹس جاری کرنا اور منشیات کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، “چاہے وہ کہیں بھی ہوں، منشیات فروشی میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔”
منوج سنہا نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کو مجرم نہیں بلکہ متاثرین سمجھا جانا چاہیے اور انہیں کونسلنگ اور بازآبادکاری کے ذریعے دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، “میں گزشتہ کئی ہفتوں سے کہہ رہا ہوں کہ منشیات کے عادی افراد متاثرہ لوگ ہیں، انہیں ہمدردی، نگہداشت اور تعاون کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ سماج کا مفید حصہ بن سکیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے منشیات مخالف مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں بھی غفلت یا منشیات فروشی سے متعلق کوئی اطلاع ہو تو فوری طور پر حکام کو آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے مذہبی رہنماؤں، بزرگوں اور سول سوسائٹی کے اراکین سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف اس تحریک میں شامل ہو کر نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے تمام طبقات کے تعاون سے مربوط کوششیں جاری رکھے گی۔






