امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ تین ماہ سے خفیہ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابلے کے حالیہ بیان کا خیر مقدم بھی کیا، جس میں سَنگھ لیڈر نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات اور عوامی رابطوں کی حمایت کی تھی۔
سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا: "یہ لوگ آپریشن سندور کی بات کرتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ سے پاکستان کے ساتھ خاموشی سے پس پردہ خفیہ مذاکرات چل رہے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ریٹائرڈ سفارتکار، ریٹائرڈ جنرل اور دیگر لوگ بیرون ملک جا کر پاکستانیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں؟”
آر ایس ایس رہنما کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی سرپرست نے کہا: "یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اگر ہم جموں و کشمیر میں حالات بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اس خطے میں مستقل امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی کھڑکی ہمیشہ کھلی رکھنی ہوگی۔ صرف مفتی صاحب (سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمدسعید) ہی نہیں بلکہ اٹل بہاری واجپائی (سابق وزیر اعظم) نے بھی کہا تھا کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔”
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر مسئلے کا کوئی حل بات چیت کے بغیر ممکن نہیں۔ پی ڈی پی سربراہ نے اپنے والد اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی سیاسی سوچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا "بلیو پرنٹ” آج بھی جموں و کشمیر میں امن کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ "میں آپ سب کو واضح طور پر بتانا چاہتی ہوں کہ مفتی صاحب کے روڈ میپ کے بغیر جموں و کشمیر مسئلے کا کوئی حل نہیں۔” بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "مفتی صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ بی جے پی کچھ بھی کر لے، آخرکار اسے مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔”
اپنی حکومت کے دوران شروع کیے گئے سرحد پار تجارت اور سفری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ راولاکوٹ روٹ اس لیے کھولا گیا تھا تاکہ تجارت بڑھے اور تشدد میں کمی آئے۔ "ہم نے راولاکوٹ روٹ اس لیے کھولا تھا کہ تجارت اور کاروبار کو فروغ ملے۔ یہاں سے سامان جائے اور وہاں سے پیسہ آئے، بندوقیں نہیں۔ لیکن وہ راستہ بھی بند کر دیا گیا۔”
پی ڈی پی صدر نے دعویٰ کیا کہ 2019 کی آئینی تبدیلیوں، یعنی آرٹیکل 370 کی منسوخی اور سابق ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے بعد پیر پنچال اور چناب وادی کے لوگوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔






