• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۱۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ایل جی منوج سنہا کی کپوارہ میں منشیات مخالف مہم کی قیادت

جموں و کشمیر میں شراب پر بڑھتی بحث: سیاسی، مذہبی اور سماجی زاویوں کا تفصیلی جائزہ

ندیم خان/بارہمولہ

by امت ڈیسک
15/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر میں شراب کی دکانوں، منشیات کے بڑھتے رجحان اور اس کے سماجی اثرات پر جاری بحث گزشتہ کچھ عرصے میں ایک انتہائی اہم اور حساس عوامی مسئلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ معاملہ اب صرف انتظامی پالیسی یا قانون سازی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں سیاسی اختلافات، مذہبی جذبات، سماجی تشویش اور عوامی ردِعمل سب ایک ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔

مختلف طبقات اس مسئلے کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہے ہیں، جس کے باعث یہ بحث مزید گہری، وسیع اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے حکومت کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست شراب نوشی کو فروغ نہیں دے رہی بلکہ اُن افراد کو اپنی ذاتی اور مذہبی آزادی کے مطابق انتخاب کا حق دیا جا رہا ہے جن کے عقائد اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ کوئی نئی شراب کی دکان کھولی ہے اور نہ ہی اس رجحان کو بڑھانے کے لیے کوئی مخصوص پالیسی اپنائی گئی ہے۔ بلکہ انتظامیہ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ نوجوان نسل کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جائے اور حساس علاقوں میں نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس مؤقف کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ التجا مفتی نے اس بیان کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر مذہبی بنیادوں پر شراب پر پابندی کو ناقابلِ عمل سمجھا جاتا ہے تو پھر بعض ریاستوں جیسے گجرات اور بہار میں مکمل شراب بندی کیسے نافذ کی گئی۔ ان کے مطابق اس معاملے میں حکومتی موقف میں تضاد پایا جاتا ہے، جو عوامی سطح پر مزید ابہام اور سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اسی دوران بھارتی جنتا پارٹی کے ترجمان سنیل شرما نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حساس مسئلے پر بیانات میں تسلسل اور وضاحت کی کمی نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ذمہ دار حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے پر واضح، مستقل اور دو ٹوک پالیسی اختیار کرے تاکہ عوام میں غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں نشہ آور اشیاء کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، اس لیے اس مسئلے کو صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی جنتا پارٹی جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینا نے شراب نوشی پر مکمل پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے، خصوصاً نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے پر سخت اور واضح پالیسی ناگزیر ہے تاکہ سماجی بگاڑ کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب اشوک کول نے اس بحث میں ایک نسبتاً مختلف مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صرف قانون سازی کے ذریعے شراب نوشی یا منشیات کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اصل حل عوامی آگاہی، سماجی شعور اور مسلسل بیداری مہمات ہیں۔ انہوں نے منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف سختی ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کو محفوظ رکھا جا سکے، تاہم صرف سخت قوانین کافی نہیں ہوتے۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے بھی اس مسئلے پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ شراب بھی ایک سنگین سماجی برائی ہے اور اس پر مکمل پابندی ضروری ہے۔ ان کے مطابق نشہ صرف منشیات تک محدود نہیں بلکہ شراب بھی فرد، خاندان اور پورے معاشرے پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات سمیت دنیا کے بڑے مذاہب میں نشہ آور اشیاء کو سختی سے ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ یہ انسانی اخلاق، شعور اور سماجی توازن کو بگاڑتی ہیں۔

میرواعظ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ سماجی حالات، معاشی دباؤ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ماحول میں نوجوان نسل زیادہ آسانی سے نشے کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ اس لیے مسئلے کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ ایک جامع سماجی اور اخلاقی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں خاندان، تعلیمی ادارے اور مذہبی قیادت سب شامل ہوں۔

اسی بحث کے دوران ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ اب واضح اور دو ٹوک حکمت عملی کا متقاضی ہے اور حکومت کا موجودہ مؤقف عوامی سطح پر غیر واضح تاثر پیدا کر رہا ہے۔

ادھر جموں خطے کے کشتواڑ سمیت مختلف علاقوں میں شراب بندی کے حق میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے کو ملے۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے کہا کہ جس طرح حکومت منشیات کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے، اسی طرح شراب کو بھی ایک خطرناک نشہ آور شے سمجھتے ہوئے اس پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوان نسل اس کے بڑھتے ہوئے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہیں اننت ناگ میں فلاحِ انسانیت کی جانب سے ایک بڑے عوامی بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں علماء، شعراء، طلباء، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ منشیات اور شراب دونوں ایک ہی سماجی مسئلے کے مختلف پہلو ہیں اور ان کے خلاف اجتماعی جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منشیات مخالف مہم کو مزید وسعت دی جائے اور شراب سمیت تمام نشہ آور اشیاء پر سخت اقدامات کیے جائیں۔

اس پورے مباحثے کے دوران بھارت کی ایک ریاست میں شراب پالیسی سے متعلق ایک اہم انتظامی اقدام بھی سامنے آیا جس نے اس بحث کو مزید تقویت دی۔ تمل ناڈو میں وزیر اعلیٰ وجے جوزف نے اپنے پہلے بڑے انتظامی فیصلے میں ریاست بھر میں عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور بس اسٹینڈز کے قریب قائم سرکاری شراب کی دکانوں کے حوالے سے سخت اقدام اٹھایا۔ انہوں نے 500 میٹر کے دائرے میں آنے والی 717 سرکاری شراب خوردہ دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے تحت ان دکانوں کو دو ہفتوں کے اندر بند کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ اس اقدام کو ایک انتظامی اصلاحی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد حساس مقامات کے قریب شراب کی دستیابی کو محدود کرنا اور سماجی تحفظ کو بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔

اس پورے مباحثے میں مذہبی پہلو بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ عمومی طور پر دنیا کے بڑے مذاہب میں نشہ آور اشیاء کو ناپسندیدہ اور نقصان دہ سمجھا گیا ہے۔ اسلام میں شراب کو واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ انسان کی عقل، اخلاق اور سماجی توازن کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح عیسائیت میں بھی نشے اور حد سے زیادہ استعمال کی سختی سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور اعتدال پر زور دیا گیا ہے۔ ہندومت میں بھی پاکیزہ اور سادہ زندگی کو اہمیت دی گئی ہے اور نشہ آور اشیاء سے دور رہنے کی تلقین ملتی ہے۔ بدھ مت میں بھی نشے کو ذہنی سکون، شعور اور اخلاقی تربیت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ تمام مذہبی تعلیمات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نشہ آور اشیاء کو انسانی شخصیت، خاندان اور معاشرے کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ مسئلہ صرف قانونی یا سیاسی نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی اور سماجی سوال بھی بن جاتا ہے۔

جموں و کشمیر میں شراب اور منشیات کا مسئلہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی سماجی چیلنج بن چکا ہے۔ حکومت، اپوزیشن، مذہبی رہنما اور عوام سب اپنے اپنے زاویے سے اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ایک بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ نوجوان نسل کو اس کے منفی اثرات سے بچانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا اس مسئلے کو صرف قانون سازی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے یا اس کے لیے سماجی بیداری، تعلیمی اصلاحات اور اخلاقی تربیت پر مبنی ایک وسیع حکمت عملی درکار ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ محض قانونی اقدامات کافی نہیں، بلکہ ایک مربوط سماجی تحریک ہی اس مسئلے کا دیرپا حل فراہم کر سکتی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتا تریہ ہوسابالے کا دورہ امریکہ اور خبر رساں ادارےپی ٹی آئی کو خصوصی انٹرویو:

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتا تریہ ہوسابالے کا دورہ امریکہ اور خبر رساں ادارےپی ٹی آئی کو خصوصی انٹرویو:

آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتا تریہ ہوسابالے کا دورہ امریکہ اور خبر رساں ادارےپی ٹی آئی کو خصوصی انٹرویو:

15/05/2026
دہلی میں وزیر داخلہ سے  عمر عبداللہ کی ملاقات، ریاستی درجے سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال

ریاستی درجے کی بحالی: عمر عبداللہ کی نئی کوشش، مگر سیاسی حلقوں میں بے چینی برقرار

15/05/2026
وادی کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن:سرینگر، کپواڑہ، شوپیاں، بارہمولہ اورکولگام میں جائیدادیں ضبط، دکانیں و تعمیرات مسمار

وادی کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن:سرینگر، کپواڑہ، شوپیاں، بارہمولہ اورکولگام میں جائیدادیں ضبط، دکانیں و تعمیرات مسمار

15/05/2026
مغربی بنگال کے حیران کن نتائج: بھاجپا کا جادو یا ایس آئی آر کا کمال؟

ریاستی انتخابات:بنگال کی گلیوں سے لے کر کیرلا کے ساحلوں تک، ہر جگہ ایک الگ داستان

08/05/2026
مغربی بنگال کے حیران کن نتائج: بھاجپا کا جادو یا ایس آئی آر کا کمال؟

مغربی بنگال کے حیران کن نتائج: بھاجپا کا جادو یا ایس آئی آر کا کمال؟

08/05/2026
معروف تعلیمی ادارہ ’’سراج العلوم‘‘ غیر قانونی قرار:جماعتِ اسلامی کے ساتھ مبینہ روابط اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کا الزام

معروف تعلیمی ادارہ ’’سراج العلوم‘‘ غیر قانونی قرار:جماعتِ اسلامی کے ساتھ مبینہ روابط اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کا الزام

01/05/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »