ڈیسک رپورٹ/علی عمران
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ نئی دہلی میں ہونے والی تازہ ملاقات میں ایک بار پھر ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ دہرایا گیا، تاہم سیاسی اور عوامی حلقوں میں اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق ملاقات میں ریاستی حیثیت، کاروباری قواعد، ریزرویشن پالیسی، سیکورٹی اختیارات اور جموں و کشمیر کی اقتصادی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ منتخب حکومت کو مکمل اختیارات دیے بغیر عوامی توقعات پوری نہیں کی جا سکتیں۔
سیاسی پس منظر
یاد رہے کہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اُس وقت مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ’ حالات معمول ‘پر آنے کے بعد جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ دیا جائے گا۔ بعد ازاں مرکزی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، تاہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے کوئی واضح ٹائم فریم سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمر عبداللہ کی بار بار دہلی یاترا اور مرکز کے ساتھ ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ نیشنل کانفرنس اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی درجے کے مسئلے کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ معروف مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزیر اعلیٰ ہر ملاقات میں اس مطالبے کو دہراتے ہیں، مگر عملی سطح پر مرکز کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔
بعض سیاسی ماہرین کے مطابق موجودہ ’’ہائبرڈ نظام‘‘ میں اصل اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں، جس کے باعث منتخب حکومت محدود دائرے میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر منتخب حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ریزرویشن اور اختیارات کا تنازع
ریاستی درجے کے علاوہ ریزرویشن پالیسی بھی ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ وادی میں کئی سماجی اور طلبہ تنظیمیں یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ موجودہ ریزرویشن ڈھانچے میں عمومی زمرے(جنرل کیٹگری) کے امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ملاقات میں اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے ’’عقلی بنیادوں پر نظرثانی‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔
اسی دوران مرکز کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کام خدمات معطل کرنے اور پیغامات کی نگرانی سے متعلق اختیارات دینے کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اگرچہ اس فیصلے کو سیکورٹی تناظر میں درست قرار دیا، تاہم اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے بعض حلقے اسے منتخب حکومت کے اختیارات مزید محدود کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
عوامی اور سیاسی ردعمل
عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر میں ’’معمول کے حالات‘‘ بحال ہو چکے ہیں تو پھر ریاستی درجہ واپس دینے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مرکز ایک جانب جمہوریت کی بحالی کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب منتخب حکومت کو مکمل اختیارات دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں ریاستی درجے کی بحالی کا مسئلہ جموں و کشمیر کی سیاست کا سب سے اہم موضوع بن سکتا ہے، اور یہی معاملہ مستقبل میں دہلی اور سرینگر کے تعلقات کی سمت بھی متعین کرے گا۔





