ڈیسک رپورٹ/جہانگیر عزیز
وادیٔ کشمیر میں منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف جاری سخت مہم کے تحت جموں و کشمیر پولیس نے مختلف اضلاع میں کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کرنے اور غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کی کارروائیاں انجام دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے شروع کئے گئے ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، جس کا مقصد منشیات کے کاروبار سے وابستہ عناصر کی مالی کمر توڑنا اور نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے محفوظ رکھنا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق سرینگر، کپواڑہ اورشوپیاںاضلاع میں رہائشی مکانات اور اراضی ضبط کی گئی، جبکہ بارہمولہ اورکولگام اضلاع میں مبینہ منشیات فروشوں کی تعمیر کردہ دکانیں، گاؤ شالے اور دیگر ڈھانچے مسمار کر دیئے گئے۔
سرینگر میں ایک کروڑ سے زائد مالیت کی جائیداد ضبط
پولیس کے مطابق سرینگر کے گاسو حضرت بل علاقے میں ایک دو منزلہ رہائشی مکان اور اس سے ملحقہ اراضی، جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ روپے بتائی گئی ہے، ضبط کر لی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جائیداد مقصود حسین خان نامی شخص کی ملکیت ہے جو مبینہ طور پر منشیات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث رہا ہے۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی نگین پولیس اسٹیشن نے این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعہ 68 ایف کے تحت انجام دی۔ ترجمان کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ جائیداد منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل شدہ آمدنی سے بنائی گئی تھی۔
ہندواڑہ اور شوپیاں میں بھی کارروائیاں
ہندواڑہ میں پولیس نے نذیر احمد پیر نامی شخص کا رہائشی مکان ضبط کیا۔ حکام کے مطابق ملزم متعدد این ڈی پی ایس مقدمات میں ملوث ہے اور اس کی جائیداد منشیات کے کاروبار سے حاصل شدہ رقم سے تعمیر یا مرمت کی گئی تھی۔
اسی طرح ضلع شوپیاں کے امام صاحب علاقے میں ارشد احمد ڈار کی تقریباً 14 مرلہ زمین ضبط کی گئی، جس کی مالیت قریب دس لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ زمین منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل شدہ آمدنی سے خریدی گئی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ تمام کارروائیاں مجسٹریٹ، لَمبردار اور مقامی چوکیداروں کی موجودگی میں مکمل قانونی طریقۂ کار کے تحت انجام دی گئیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
بارہمولہ اور کولگام میں انہدامی کارروائیاں
بارہمولہ کے پٹن علاقے میں پولیس نے سرکاری اراضی پر تعمیر ایک غیر قانونی گاؤ شالہ منہدم کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ ڈھانچہ شوکت احمد بٹ نامی مبینہ منشیات فروش نے تعمیر کیا تھا جو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں مطلوب ہے۔
دریں اثنا کولگام کے درین دولت آباد گاؤں میں پولیس اور محکمہ مال نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو غیر قانونی دکانیں منہدم کر دیں۔ پولیس کے مطابق یہ تعمیرات ظہور احمد شیخ نامی شخص نے سرکاری زمین پر کھڑی کی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کے خلاف چار این ڈی پی ایس مقدمات کے علاوہ دیگر فوجداری نوعیت کے کیس بھی درج ہیں۔
ایل جی انتظامیہ کا سخت پیغام
حکام کے مطابق ایل جی منوج سنہا کی قیادت میں انتظامیہ نے منشیات کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی اختیار کی ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف منشیات فروشوں کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ان کے مالی وسائل اور جائیدادوں کو بھی قانون کے دائرے میں لا کر ضبط کرنا ضروری ہے تاکہ منشیات کے پورے نیٹ ورک کو کمزور کیا جا سکے۔
انتظامیہ سے وابستہ سینئر افسران کا کہنا ہے کہ ’’منشیات فروش نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ حکومت ایسے عناصر کے خلاف ہر ممکن سخت کارروائی جاری رکھے گی۔‘‘
پولیس کا عزم
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ وادی بھر میں منشیات فروشوں، اسمگلروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ سینئر پولیس افسر ان کا ماننا ہے کہ ’’صرف ایف آئی آر درج کرنا کافی نہیں، بلکہ منشیات کے کاروبار سے بنائی گئی جائیدادوں کو ضبط کر کے اس نیٹ ورک کی معاشی بنیاد ختم کرنا ضروری ہے۔‘‘
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں منشیات فروشی سے متعلق معلومات فوری طور متعلقہ تھانوں یا پولیس کنٹرول روم تک پہنچائیں تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔






