امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: جسٹس سوریا کانت نے اپنے حالیہ متنازع ریمارکس پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے کہ انہوں نے ملک کے نوجوانوں پر تنقید کی یا انہیں “پیراسائٹس” قرار دیا۔ چیف جسٹس نے ہفتہ کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہوا کہ میڈیا کے ایک طبقے نے عدالت میں دیے گئے ان کے زبانی مشاہدات کو غلط انداز میں پیش کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید اُن افراد پر تھی جو جعلی اور فرضی ڈگریوں کے ذریعے وکالت جیسے معزز پیشوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے کہاکہ “میں نے خاص طور پر اُن لوگوں پر تنقید کی تھی جو جعلی اسناد کے سہارے قانونی پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسے افراد میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر معزز شعبوں میں بھی داخل ہو گئے ہیں، اسی تناظر میں انہیں ’پیراسائٹس‘ کہا گیا تھا۔”
سوریا کانت نے مزید کہا کہ ملک کا نوجوان طبقہ بھارت کا مستقبل ہے اور وہ خود نوجوانوں سے بے حد متاثر ہیں۔ چیف جسٹس کے مطابق “مجھے بھارت کے موجودہ اور مستقبل کے انسانی وسائل پر فخر ہے۔ ملک کا ہر نوجوان مجھے متاثر کرتا ہے اور میں انہیں ترقی یافتہ بھارت کے ستون کے طور پر دیکھتا ہوں۔” یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جمعہ کو سپریم کورٹ میں سینئر ایڈووکیٹ نامزدگی سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے بعض سخت ریمارکس دیے تھے۔
بنچ میں جوئے مالیہ باگچی بھی شامل تھے۔ عدالت نے درخواست گزار ایڈووکیٹ سنجے دوبے کے رویہ پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ عدالت کی طرف سے دیا جانے والا اعزاز ہے، اسے مقدمات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے مبینہ فیس بک تبصروں پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس طرح کی زبان وکالت کے پیشے کے وقار کے منافی ہے۔
اسی دوران چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ بعض بے روزگار نوجوان میڈیا، سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی سرگرمیوں میں آ کر اداروں پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ ان ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی، جس پر چیف جسٹس نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔





