امت نیوز ڈیسک //
جموں، 19 مئی: وزیر برائے جنگلات جاوید احمد رانا نے منگل کو سدھرا میں مبینہ ’’غیر قانونی انہدامی کارروائی‘‘ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس ’’ناانصافی‘‘ میں ملوث تمام افراد، بشمول محکمہ جنگلات کے افسران، کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا، ’’یہ کارروائی مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر منصفانہ تھی۔ میں نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اس میں ملوث کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ محکمہ جنگلات کے جن افسران نے اس انہدامی مہم میں حصہ لیا، ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ اٹھائیں گے تاکہ خانہ بدوش طبقے کو انصاف دلایا جا سکے۔
قبل ازیں جموں کے مضافاتی علاقے رایکہ بندی جنگلاتی پٹی میں محکمہ جنگلات، محکمہ مال اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 25 ڈھانچوں کو منہدم کر دیا تھا۔
حکام کے مطابق تقریباً 60 کنال قیمتی جنگلاتی اراضی واگزار کرائی گئی اور یہ کارروائی چار گھنٹے تک جاری رہی۔
اس کارروائی کے بعد متاثرہ خاندانوں، جن میں اکثریت خانہ بدوش خاندانوں کی تھی، نے احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہدامی مہم بغیر پیشگی نوٹس کے چلائی گئی، اس لیے یہ غیر قانونی ہے۔
متاثرین کا کہنا تھا، ’’انہوں نے چٹا کے خلاف کارروائی کے نام پر پوری بستی کو نشانہ بنایا۔ کیا پوری کالونی اس میں ملوث تھی؟ تمام مکانات کیوں گرائے گئے؟ یہ سراسر ناانصافی ہے۔‘‘
متاثرہ خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ چھ نسلوں سے اس علاقے میں آباد ہیں اور 1952 کی ووٹر فہرستوں میں بھی ان کے نام موجود ہیں۔
وزیر جنگلات نے سوشل میڈیا پر بھی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’سدھرا، جموں میں ایل جی انتظامیہ کی جانب سے گھروں کی خفیہ اور یکطرفہ مسماری پر شدید صدمے اور غصے میں ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’معصوم گوجر-بکروال خاندانوں کی دہائیوں پرانی میراث کو ملبے میں تبدیل کر دیا گیا، جبکہ منتخب عوامی حکومت یا میری وزارت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ صرف ایک ریگولیٹری مہم نہیں بلکہ خانہ بدوش قبائلی برادری کو خوفزدہ اور حاشیے پر دھکیلنے کی ایک منظم کوشش ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس ’’منتخب ہراسانی اور من مانی‘‘ پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی اور متاثرہ خاندانوں کی مکمل بازآبادکاری اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔






