• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
بالکونی ۔۔۔میرا عکس میری تحریر

صحافت: ایک صفت، ایک ذمے داری

ناہیدہ ملک

by امت ڈیسک
22/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

صحافت ایک وسیع میدان ہے یہ ادب بھی ہے، ہنر بھی، عبادت بھی، ایک صفت بھی اور ایک بڑی ذمے داری بھی یہ معاشرے میں موجود حالات و واقعات سے آگاہ کرتی ہے اور ہمیں اچھی بری خبریں اور معلومات پہنچاتی ہے جب سماج میں بگڑے ہوئے حالات ہوں یا ملک کی ترقی و کامیابی کی خبریں سامنے آئیں یا کوئی سنسنی خیز واقعہ پیش آئے، تو صحافت ہی ہے جو معاشرے کو باخبر رہنے کی تلقین کرتی ہے تاکہ ہم اپنی آنکھوں دماغ ہاتھوں اور زبان کا درست استعمال کر سکیں اور بہتری کی طرف رجوع کریں

ایک صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون اور ادب کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے۔ مگر افسوس کہ آج کل بعض افراد جیسے مسٹر ندیم، مسٹر ارشاد بھٹی اور مس فضا،بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں، جو صحافت جیسے خوبصورت شعبے کو عریانیت کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی کی ذاتی زندگی کو اچھالنا یا نامناسب الفاظ کا استعمال کرنا صحافت کا اصول نہیں ہے۔

صحافت جھوٹ، مکاری اور جلد بازی کی بنیاد پر قائم نہیں کی جا سکتی، بلکہ سچ، حقیقت، صبر اور تحمل کے ساتھ معاشرے کی بہتری کے لیے انجام دی جاتی ہے۔ صحافی ایک ادبی میزبان اور اداکار کی مانند ہوتا ہے، جس کے پاس آنے والے مہمان کی عزت و آبرو کی حفاظت اس کی اولین ذمہ داری ہے، نہ کہ چند پیسوں کی خاطر ان کی عزت کو مجروح کرنا۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کے دامن میں کوئی نہ کوئی کمزوری چھپی ہوتی ہے؛ مگر صحافی کسی کا ماضی اچھال کر اپنا حال سنوار نہیں سکتا، بلکہ اس طرح وہ اپنا مستقبل داغدار کر لیتا ہے اور عوام کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ عوام جس صحافی کو عزت و احترام دیتی ہے، وہی اگر غلط بیانی کرے تو نظر انداز بھی کر دیتی ہے۔

انٹرنیٹ کے اس دور میں تقریباً ہر شخص پوڈکاسٹر بن چکا ہے۔ لوگ گھروں میں بیٹھ کر معروف شخصیات کو بلا کر ان کی شخصیت کو مجروح کرتے نظر آتے ہیں، اور یوں صحافت کی تاریخ، آزادیٔ اظہار، اور تعلیم و تربیت کے اصولوں کو انتہائی پست سطح پر پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے میں نئے ابھرتے صحافی کب زوال کا شکار ہو جاتے ہیں، اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

آج صحافت بعض جگہوں پر غیبت کا اڈا بنتی جا رہی ہے، جہاں مسائل کم اور افراد کا مذاق زیادہ اڑایا جاتا ہے۔ کیا فضا علی جیسے افراد نے ادب، ثقافت، تہذیب و تمدن کی کوئی نشانی باقی رکھی ہے؟ ہم پوری دنیا میں ایسے لوگوں کو سنتے ہیں اور

نادانستہ طور پر انہیں مزید حوصلہ دیتے ہیں کہ وہ اس عظیم شعبے کو سستے داموں فروخت کریں۔
اسی طرح کچھ مشہور کاسٹر ایسے ہیں جو تہذیب کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔ وہ ہر سوال کے ساتھ طنز، تضحیک اور بعض اوقات گالی تک دے دیتے ہیں، اور سامنے والے کو بات کرنے کا موقع بھی نہیں دیتے۔ جب فنکار غرور میں آتا ہے تو سب سے پہلے اس کا لہجہ اور زبان بدلتی ہے، جو بالآخر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

اگر ہم اخبار کی طرف دیکھیں تو وہاں ہر خبر سلیقے، قرینے اور حکمت کے ساتھ شائع ہوتی ہے۔ اخبار پڑھنے سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور قاری حالات سے باخبر ہوتا ہے۔ اخبار میں شائع ہونے والی ہر خبر ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہتی ہے، جہاں لکھنے والوں کی محنت، لگن اور سنجیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ ہر لفظ کو تول کر لکھتے ہیں اور عنوان کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں۔

اخبار پڑھنے والا نہ بوکھلاتا ہے اور نہ ہی اس میں فتنہ و فساد کی گنجائش رہتی ہے، جبکہ انٹرنیٹ پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو عام انسان کو اذیت دیتی ہے اور ردِعمل میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

صحافت ایک سماجی اور تہذیبی ذمے داری ہے، مگر جلد بازی میں اکثر لوگ تحقیق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جناب سر سید احمد خان نے صحافت کو ایک خدمت قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ صحافی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو مشورہ دینے والا،

دوسرا وہ جو تربیت کرنے والا، اور تیسرا وہ جو معاشرے کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے۔
بہتر ہے کہ اخبار کو صبح کی چائے کے ساتھ پڑھا جائے، شاید ہمارے ذہن کو تازہ ہوا کا احساس مل سکے۔ورنہ…

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

Next Post

لوگ بدل جاتے ہیں- خاموش تبدیلیوں کا نفسیاتی اور جذباتی المیہ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں و کشمیر میں محکمہ مال کی بھرتیوں میں نئی تبدیلیاں اور اردو کا کردار: پالیسی، روایت اور مستقبل کا توازن

جموں و کشمیر میں محکمہ مال کی بھرتیوں میں نئی تبدیلیاں اور اردو کا کردار: پالیسی، روایت اور مستقبل کا توازن

15/05/2026
نشہ مکت ابھیان اور شراب پر پابندی

نشہ مکت ابھیان اور شراب پر پابندی

15/05/2026
کشمیر میں این جی اوز کی بھرمار:کارکردگی، مسائل اور اصلاح کی ضرورت

کشمیر میں این جی اوز کی بھرمار:کارکردگی، مسائل اور اصلاح کی ضرورت

08/05/2026
مکمل نابینا ہونے کے باوجود عزم کی مثال وادی کشمیر بانڈی پورہ کے عرفان احمد لون نے UPSC امتحان میں کامیابی حاصل کر لی:

نشہ مکت جموں و کشمیر: ایک سماجی امتحان، نوجوانوں کی آزمائش اور امید کی نئی کرن

08/05/2026
بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

08/05/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

بین الاقوامی یوم صحافت: جموں وکشمیر میں اردو صحافت کا پس منظر۔۔۔۔

08/05/2026
Next Post
انتخابی مہم کی  سیاسی نفسیات اور  بنکھو وزیر اعلیٰ گانا

لوگ بدل جاتے ہیں- خاموش تبدیلیوں کا نفسیاتی اور جذباتی المیہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »