دنیا جتنی ترقی کرتی جا رہی ہے انسان اتنا ہی اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر آج کا نوجوان بظاہر اس کے ہاتھ میں جدید موبائل ہے انٹرنیٹ ہے سہولیات ہیں آزادی ہے مگر اس کے دل کے اندر ایک عجیب سا شور ہے ایک ایسی خاموشی جو چیختی ہے ایک ایسا درد جو دکھائی نہیں دیتا. جدید نوجوان کا ذہن اب پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوٹ جاتا ہے ذرا سی ناکامی پر بکھر جاتا ہے اور معمولی تنقید پر اندر سے مرنے لگتا ہے.
یہ وہ نسل ہے جس کے پاس سب کچھ ہے مگر سکون نہیں جس کے پاس ہزاروں دوست ہیں مگر ایک سچا ہمراز نہیں جو سوشل میڈیا پر ہنستا ہے مگر رات کے اندھیرے میں خاموش آنسو بہاتا ہے آج کا نوجوان اندر سے انتہائی نازک حساس اور تنہا ہو چکا ہے اس کے ذہن پر دباؤ خوف بے یقینی اور مقابلے کی ایسی گرد جم چکی ہے کہ وہ اپنی اصل پہچان ہی بھولتا جا رہا ہے.
پہلے زمانے کے نوجوان مشکلات سے لڑتے تھے وہ غربت دیکھتے تھے سختیاں سہتے تھے مگر ان کے دل مضبوط تھے وہ صبر جانتے تھے برداشت جانتے تھے اور زندگی کی تلخیوں کو خاموشی سے جھیل لیتے تھے مگر آج کا نوجوان سہولتوں کے باوجود کمزور ہو گیا ہے کیونکہ اس کی روح تھک چکی ہے. وہ ہر لمحہ دوسروں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرتا رہتا ہے کسی کا خوبصورت چہرہ کسی کی مہنگی گاڑی کسی کی کامیابی کسی کی شہرت سب کچھ اسے احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے.
سوشل میڈیا نے نوجوان کے ذہن کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ہر شخص اپنی زندگی کا صرف خوبصورت حصہ دنیا کو دکھاتا ہے کوئی اپنی مہنگی چیزیں دکھا رہا ہے کوئی خوشیوں کی تصویریں کوئی کامیابیوں کے قصے یہ سب دیکھ کر ایک عام نوجوان اپنے آپ کو ناکام سمجھنے لگتا ہے وہ یہ نہیں جانتا کہ تصویروں کے پیچھے کتنے دکھ چھپے ہوتے ہیں وہ صرف دوسروں کی چمکتی ہوئی زندگی دیکھتا ہے اور اپنی زندگی سے نفرت کرنے لگتا ہے.
آج کا نوجوان اندر سے شدید تنہائی کا شکار ہے وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اکیلا ہے گھر میں والدین مصروف ہیں دوست مطلبی ہو چکے ہیں اور معاشرہ صرف کامیاب انسان کو اہمیت دیتا ہے ایسے میں نوجوان اپنے درد کو دل کے اندر دفن کرتا رہتا ہے. وہ کسی کو اپنے آنسو نہیں دکھاتا وہ خاموش رہتا ہے مگر اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے
تعلیم کا دباؤ بھی نوجوان کے ذہن کو کمزور کر رہا ہے ہر طرف مقابلہ ہے. نمبر لاؤ کامیاب بنو دوسروں سے آگے نکلو۔ والدین کی توقعات معاشرے کے طعنے مستقبل کا خوف یہ سب ایک نوجوان کے ذہن پر اتنا بوجھ ڈال دیتے ہیں کہ وہ جینا بھول جاتا ہے وہ کتابوں کے درمیان اپنا بچپن کھو دیتا ہے اس کے چہرے پر مسکراہٹ کم اور پریشانی زیادہ نظر آتی ہے.
کئی نوجوان صرف اس لیے ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں کبھی سمجھا ہی نہیں گیا ان کی خاموشی کو ضد سمجھا گیا ان کے درد کو بہانہ کہا گیا اور ان کے آنسوؤں کو کمزوری حالانکہ ہر خاموش انسان کمزور نہیں ہوتا بعض لوگ اندر سے اتنا ٹوٹ چکے ہوتے ہیں کہ بولنے کی ہمت ہی نہیں رہتی.
افسوس یہ ہے کہ ہم جسمانی بیماری کو تو بیماری مان لیتے ہیں مگر ذہنی تکلیف کو نہیں اگر کسی نوجوان کو بخار ہو تو سب فکر کرتے ہیں مگر اگر وہ ذہنی دباؤ میں ہو اداس ہو یا اندر سے ٹوٹ رہا ہو تو لوگ کہتے ہیں
یہ سب تمہارے وہم ہیں تم زیادہ سوچتے ہو نماز پڑھو سب ٹھیک ہو جائے گا یقیناً عبادت انسان کو سکون دیتی ہے مگر صرف نصیحتیں کافی نہیں ہوتیں نوجوان کو محبت بھی چاہیے توجہ بھی چاہیے سننے والا کان بھی چاہیے اور سمجھنے والا دل بھی چاہیے.
آج بہت سے نوجوان راتوں کو نہیں سوتے وہ خاموشی سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ انہیں ڈر لگتا ہے کہ اگر وہ ناکام ہو گئے تو کیا ہوگا۔ اگر لوگ ان پر ہنسے تو کیا ہوگا اگر وہ دوسروں جیسے نہ بن سکے تو کیا ہوگا یہی خوف آہستہ آہستہ ان کے ذہن کو کھا جاتا ہے.
منشیات بھی جدید نوجوان کے نازک ذہن کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہیں کچھ نوجوان وقتی سکون کے لیے نشے کا سہارا لیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید چند لمحوں کے لیے ان کا درد کم ہو جائے گا۔ مگر حقیقت میں نشہ انسان کے ذہن روح اور مستقبل تینوں کو تباہ کر دیتا ہے کشمیر سمیت دنیا کے کئی علاقوں میں نوجوان نسل خاموشی سے اس زہر میں ڈوبتی جا رہی ہے یہ صرف ایک فرد کی تباہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے.
محبت میں ناکامی بھی نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتی ہے اس عمر میں جذبات بہت حساس ہوتے ہیں ایک بے وفائی ایک جدائی ایک نظر انداز کر دینا نوجوان کو اندر سے ختم کر دیتا ہے کچھ لوگ اس درد سے نکل آتے ہیں مگر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں. کئی نوجوان اپنی زندگی ختم کرنے تک کا سوچنے لگتے ہیں یہ صرف محبت کی ناکامی نہیں ہوتی بلکہ جذباتی کمزوری تنہائی اور بے سہارا ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جدید نوجوان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے پاس اظہار کے لیے پلیٹ فارم تو بہت ہیں مگر سچی توجہ دینے والا کوئی نہیں۔ وہ اسٹیٹس لگاتا ہے اداس اشعار پوسٹ کرتا ہے خاموش تصویریں شیئر کرتا ہے مگر لوگ صرف لائک کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں. کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ "تم واقعی ٹھیک ہو؟”
کبھی کبھی ایک سوال ایک توجہ ایک محبت بھرا جملہ کسی انسان کو دوبارہ جینے کی امید دے دیتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی صرف جسمانی ضروریات پوری نہ کریں بلکہ ان کے جذبات کو بھی سمجھیں صرف اچھے کپڑے مہنگا موبائل اور بہترین تعلیم کافی نہیں نوجوان کو وقت چاہیے محبت چاہیے اعتماد چاہیے اسے یہ احساس چاہیے کہ اگر پوری دنیا اس کے خلاف ہو جائے تب بھی اس کے والدین اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے.
اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ صرف کتابی علم نہ دیں بلکہ نوجوانوں کے دلوں کو بھی سمجھیں بعض اوقات ایک استاد کا نرم لہجہ ایک ٹوٹے ہوئے طالبعلم کی زندگی بدل دیتا ہے سخت الفاظ اور ذلت نوجوان کے دل پر ایسے زخم چھوڑ دیتے ہیں جو زندگی بھر نہیں بھرتے.








