کشمیر اپنی تہذیب، غیرت، محنت اور خودداری کے حوالے سے ہمیشہ ایک منفرد شناخت رکھتا آیا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے سخت ترین حالات میں بھی عزتِ نفس کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، لیکن افسوس کہ گزشتہ چند برسوں میں گداگری ایک منظم پیشہ اور کاروبار کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بازاروں، ٹریفک سگنلز، زیارت گاہوں، اسپتالوں اور عوامی مقامات پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف غربت کا نہیں بلکہ سماجی، اخلاقی اور انتظامی ناکامی کا بھی مظہر بن چکا ہے۔
اسلام میں محنت اور خودداری کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘اسلام ضرورت مند کی مدد کا حکم دیتا ہے، مگر بلا ضرورت سوال کرنے اور پیشہ ورانہ گداگری کی سخت مذمت بھی کرتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں رزقِ حلال کمانے کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے معاشرے میں ایسی سوچ کا فروغ انتہائی خطرناک ہے جس میں محنت کے بجائے آسان آمدنی کو ترجیح دی جائے۔
بدقسمتی سے کشمیر میں بعض عناصر نے گداگری کو منظم نیٹ ورک کی صورت دے دی ہے۔ معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کو استعمال کرکے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں حقیقی مستحق افراد بھی شک و شبہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پیشہ ور بھکاری نہ صرف معاشرتی وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ سیاحت، تجارت اور سماجی اعتماد پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔
اس صورتحال میں سب سے پہلی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پیشہ ورانہ گداگری کے خلاف مؤثر قانون سازی کرے، منظم گروہوں کے خلاف کارروائی کرے اور ایسے افراد کی بازآبادکاری کے لیے عملی منصوبے تیار کرے۔ فنی تربیت، روزگار اسکیمیں، یتیم اور بے سہارا افراد کے لیے کفالت کے مراکز اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ صرف وقتی پکڑ دھکڑ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مستقل سماجی و معاشی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہمیں جذباتی فیصلوں کے بجائے دانشمندانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ہر ہاتھ پھیلانے والے کو رقم دینے کے بجائے مستند فلاحی اداروں، یتیم خانوں اور حقیقی ضرورت مند خاندانوں کی مدد کی جائے۔ اگر معاشرہ پیشہ ور گداگری کی حوصلہ شکنی کرے اور محنت کش طبقے کی حوصلہ افزائی کرے تو اس ناسور پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
علمائے کرام اور دینی اداروں کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات کے ذریعے لوگوں میں خودداری، محنت اور حلال روزی کی اہمیت اُجاگر کی جائے۔ ساتھ ہی صاحبِ استطاعت افراد کو زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے درست اور منظم مصرف کی طرف رہنمائی دی جائے تاکہ حقیقی مستحقین تک مدد پہنچ سکے۔ علماء کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اسلام غربت کے خاتمے اور معاشرتی انصاف کا داعی ہے، نہ کہ پیشہ ورانہ سوال گری کا۔
کشمیر جیسے باوقار معاشرے کو گداگری کی لعنت سے بچانے کے لیے حکومت، عوام، علماء اور سماجی اداروں کو مشترکہ ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ اگر آج بھی ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والی نسلوں میں محنت، خودداری اور عزتِ نفس کی جگہ آسان طلبی اور انحصار کی ذہنیت پروان چڑھے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس مسئلے کو صرف رحم و ترس کے زاویے سے نہیں بلکہ ایک خطرناک سماجی بیماری سمجھ کر اس کا مستقل علاج تلاش کریں۔






