امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے اس خط پر ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کے مسائل پر مرکز کے ساتھ مشترکہ سیاسی رابطے کے لیے آل پارٹی میٹنگ بلانے کی اپیل کی تھی۔
منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے خط سے یہ تاثر ملا کہ وہ کئی ہفتوں سے ملاقات کے وقت کی منتظر تھیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ہفتے کے روز محبوبہ مفتی نے ان سے ملاقات کی درخواست کی تھی، جس پر انہوں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ اتوار کو پہلگام میں مصروف رہیں گے اور پیر یا منگل کو رابطہ کرکے ملاقات کا وقت طے کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’محبوبہ مفتی صاحبہ، ہماری ہفتے کے روز بات ہوئی تھی جب آپ نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اتوار کو پہلگام میں رہوں گا اور پیر یا منگل کو ملاقات کے لیے وقت مقرر کرنے کے لیے رابطہ کروں گا۔‘‘
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ خط سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انہوں نے محبوبہ مفتی کو کئی ہفتوں تک ملاقات کے لیے انتظار کروایا، جو درست نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ یہ خط عوامی سطح پر جاری کیا جا چکا ہے، اس لیے وہ نیشنل کانفرنس کے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد اسی انداز میں اس کا جواب دیں گے۔






