امت نیوز ڈیسک //
سری نگر،: اپنی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر غلام حسن میر نے جمعرات کے روز ریاستی درجہ (اسٹیٹ ہُڈ) کی بحالی کے لیے نیشنل کانفرنس کی جانب سے نئی دہلی میں علیحدہ احتجاجی مہم شروع کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت کو مرکز کے سامنے ایک متحدہ موقف پیش کرنے کے لیے تمام سیاسی فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق کے اس اعلان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کے دوران دہلی میں احتجاج کرے گی، میر نے کشمیر نیوز ٹرسٹ کو بتایا کہ کسی ایک جماعت کی بجائے تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ مہم زیادہ مؤثر ثابت ہوتی۔
انہوں نے کہا،:”نیشنل کانفرنس کو دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے تھا تاکہ نئی دہلی میں مشترکہ احتجاج کیا جا سکے۔ بدقسمتی سے این سی نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔“
میر نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت پہلے ہی ریاستی درجہ کی بحالی کے مسئلے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں شروع کر چکی تھی اور جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آنے کی اپیل کی گئی تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کوششوں کو مضبوط بنانے کے بجائے نیشنل کانفرنس نے ایک وسیع تر سیاسی تحریک قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
میر نے کہا،:”ہم نے جموں سے تمام سیاسی جماعتوں اور عوام سے پُرزور اپیل کی تھی کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے متحد ہوں۔ این سی نے جو کیا ہے، وہ ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔“
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا حوالہ دیتے ہوئے میر نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود انہوں نے بھی اس معاملے پر مشترکہ حکمتِ عملی کی حمایت کی تھی اور نیشنل کانفرنس کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے قیام کے لیے خط بھی لکھا تھا۔
انہوں نے کہا،:”ہمارے محبوبہ مفتی کے ساتھ اختلافات ہیں، لیکن انہوں نے بھی متحدہ محاذ کی بات کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ہماری اپیلوں پر کس حد تک جواب دیا۔“
غلام حسن میر نے کہا کہ ریاستی درجہ کا مسئلہ جماعتی سیاست سے بالاتر ہے اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت ضروری ہے، چاہے ان کی انتخابی حیثیت یا سیاسی قوت کچھ بھی ہو۔
انہوں نے کہا،:”کچھ جماعتیں حجم کے لحاظ سے چھوٹی ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی اپنی اہمیت اور عوامی حمایت موجود ہے۔ انہیں نظرانداز کرنا اور اعتماد میں نہ لینا مسئلے کے حل کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بناتا ہے۔“
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس عوامی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے بجائے سیاسی پوزیشننگ میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔
[کے این ٹی]





