امت نیوز ڈیسک //
تہران/تل ابیب، 8 جون: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی دوسری لہر داغ دی ہے، جس کے بعد اسرائیل نے وسطی اور مغربی ایران میں متعدد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے داغے گئے میزائلوں نے وسطی اور جنوبی اسرائیل کو نشانہ بنایا، جبکہ دیمونا اور ارد کے علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔ دیمونا میں اسرائیل کا اہم جوہری تحقیقی مرکز واقع ہے، جس کے باعث صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے تہران، اصفہان اور تبریز میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف فضائی حدود بند کر دی ہیں، جبکہ ملک کے مغربی حصے میں بھی پروازوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خوزستان کے شہر مہشہر میں ایک پیٹروکیمیکل فیکٹری بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں آئی ہے، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
کشیدگی کے باعث خطے کے کئی ممالک نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سعودی عرب میں امریکی افواج کے زیرِ استعمال پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب میزائل الرٹ جاری کیا گیا، جبکہ عراق نے اپنی فضائی حدود 72 گھنٹوں کے لیے بند کر دی ہیں۔ شام نے بھی جنوبی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔
ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان تازہ جھڑپوں کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی نمایاں مہنگا ہو گیا ہے۔





