امت نیوز ڈیسک //
تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے، کویت میں امریکی اڈوں اور اردن کے الأزرق ایئر بیس سمیت 18 اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران میں تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے مبینہ جارحانہ اقدامات کے جواب میں کیے گئے۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران کی درخواست پر حملے روکے گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں کا خاتمہ ایران کے سخت ردعمل کا نتیجہ ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی تجارت کے دوران 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
کویت نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں جبکہ فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے بھی شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں اور سفارتی حل کی جانب پیش رفت کریں۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران بمباری، دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگ صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہ سکتی۔
خطے میں جاری صورتحال کے باعث عالمی برادری میں تشویش بڑھ گئی ہے اور کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کر دی ہیں۔






