امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 11 جون: نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو لے کر دہلی میں ہونے والے پارٹی کے احتجاج میں شرکت کے لیے کسی سیاسی جماعت کو باضابطہ دعوت نہیں دی جائے گی، البتہ جو بھی اس تحریک میں شامل ہونا چاہے، اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا، ’’جو کوئی بھی احتجاج میں شامل ہونا چاہتا ہے، وہ شامل ہو سکتا ہے۔ ہم کسی کے پاس کشکول لے کر نہیں جائیں گے۔‘‘
نیشنل کانفرنس نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی میں جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینے کے مطالبے پر احتجاج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں سے بھی احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
جموں و کشمیر کے اہم مسئلے پر سیاسی اتحاد کے امکانات سے متعلق سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے معاملے پر سبھی جماعتیں متفق ہیں۔
جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت واپس ملنے کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا، ’’میں خدا نہیں ہوں، یہ صرف اللہ جانتا ہے اور وہ لوگ جانتے ہیں جو دہلی میں اقتدار میں ہیں۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم پہلے ہی اس کے لیے لڑ رہے ہیں، ہم خاموش نہیں ہیں اور اپنی آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ جو حقوق ہم سے چھینے گئے ہیں، ان کے خلاف احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ہے۔‘‘






