امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 11 جون: بھارتی وزیر برائے جہاز رانی سربانند سونووال نے تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے تین بھارتی ملاح ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق تینوں کی لاشیں برآمد کر کے ان کی شناخت کر لی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق "ایم ٹی سیٹی بیلو” نامی پالاؤ پرچم بردار آئل ٹینکر پر عملے کے 28 افراد سوار تھے، جن میں 24 بھارتی، دو پاکستانی، ایک یوکرینی اور ایک روسی شہری شامل تھے۔ جہاز خلیج عمان میں اس وقت امریکی کارروائی کی زد میں آیا جب امریکی حکام نے الزام لگایا کہ یہ ایرانی تیل لے جا رہا تھا اور امریکی ہدایات پر عمل نہیں کر رہا تھا۔
ہلاک ہونے والے بھارتی ملاحوں کی شناخت آدتیہ شرما، شیوانند چورسیا اور پٹنالا سریش کے طور پر کی گئی ہے۔ اس سے قبل انہیں لاپتہ قرار دیا گیا تھا جبکہ دیگر 21 بھارتی ملاحوں کو بچا لیا گیا تھا۔
وزیر سربانند سونووال نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارتی بحری برادری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ بچائے گئے ملاحوں کو فوری طور پر وطن واپس لایا جائے اور جاں بحق افراد کی میتیں ان کے اہل خانہ تک پہنچائی
جائیں۔
بھارت کا سخت ردعمل
بھارت نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری جہاز پر موجود 24 بھارتی شہری امریکی کارروائی سے متاثر ہوئے۔ وزارت خارجہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
بھارتی حکومت نے اس واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا اور سخت اعتراض درج کرایا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور حالیہ مہینوں میں یہاں متعدد بحری واقعات پیش آ چکے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق جہاز نے بار بار امریکی احکامات نظر انداز کیے، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے اسے نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب بھارت نے اس واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔






