بے روزگاری کی تعریف خواہ کسی بھی انداز میں کی جائے، اس کے طویل المدتی اثرات نہایت تباہ کن ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی معاشرے کو درپیش سب سے سنگین مسائل میں شمار ہوتی ہے۔ کشمیر میں اس حقیقت کا اظہار اُن طویل قطاروں میں ہوتا ہے جہاں تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ سرکاری ملازمت کو عموماً معاشی تحفظ اور سماجی وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنی تعلیم پر وقت، محنت اور وسائل صرف کیے ہیں، مگر افسوس کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں، چہ جائیکہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔ نتیجتاً وہ دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جب تعلیم روزگار کا ذریعہ نہ بن سکے تو اس کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بہت سے غیر تعلیم یافتہ افراد اپنی روزی روٹی کمانے اور باعزت زندگی گزارنے میں کامیاب ہیں، جبکہ تعلیم یافتہ نوجوان ہر راستہ بند پاتے ہیں۔ وہ مایوسی، بے یقینی اور محرومی کی ایک ایسی سرنگ میں داخل ہو جاتے ہیں جس کے اختتام پر روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔
ماضی میں سرکاری ملازمتوں کے لیے اس قدر بے چینی اور دوڑ دھوپ دیکھنے میں نہیں آتی تھی۔ اُس وقت خاندان اپنی بیشتر ضروریات خود پوری کر لیتے تھے۔ زرعی زمینیں وافر تھیں اور اکثر گھرانے کسی نہ کسی حد تک خود کفیل تھے۔ اگر اضافی ضرورت پیش آتی تو اشیاء کے تبادلے کا نظام بہت سے مسائل حل کر دیتا تھا۔ زندگی نسبتاً سادہ تھی، خواہشات محدود تھیں اور قناعت ایک اجتماعی قدر کے طور پر موجود تھی۔ ایک فرد کی آمدنی پورے خاندان کے اخراجات اٹھانے کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی۔ شکرگزاری معاشرتی زندگی کی بنیاد تھی اور ناشکری کا تصور کم ہی دیکھنے میں آتا تھا۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ ضروریات میں بے پناہ اضافہ ہوا اور معاشرتی تعلقات میں شکرگزاری کی جگہ خود غرضی نے لینا شروع کر دی۔ جہاں کبھی ایثار اور باہمی تعاون انسانی رشتوں کی بنیاد تھے، وہاں اب ذاتی مفادات غالب آ چکے ہیں۔ خود کفالت کی ثقافت کمزور پڑ گئی ہے اور انسان بازاروں اور بیرونی وسائل پر پہلے سے کہیں زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔ مادیت نے جدید زندگی کے بنیادی اصول کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔
آج کی باہم مربوط دنیا میں بے روزگاری ایک مقامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور خودکار نظام (Automation) تیزی سے روایتی ملازمتوں کی جگہ لے رہے ہیں۔ کووِڈ-19 کی وبا نے دنیا بھر میں روزگار کے شعبے کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا اور لاکھوں نوجوانوں کو بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ یونیورسٹی کی ڈگری اب روزگار کی ضمانت نہیں رہی، کیونکہ آجر حضرات اب عملی مہارتوں اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو ترجیح دیتے ہیں، جن کی فراہمی میں روایتی تعلیمی نظام اکثر ناکام دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ گیگ اکانومی (Gig Economy) اور فری لانسنگ کے شعبوں نے کچھ نئے مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ان میں وہ استحکام، طبی سہولیات اور ریٹائرمنٹ فوائد موجود نہیں جو باقاعدہ ملازمتوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار معیشت کی طرف منتقلی بعض صنعتوں کو غیر مؤثر بنا رہی ہے جبکہ نئی ملازمتیں ایسے افراد کو درکار ہیں جو خصوصی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ ہوں۔ آج کے نوجوانوں کو محض قابلِ روزگار رہنے کے لیے مسلسل اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے، جو پچھلی نسلوں کے لیے ایک غیر مانوس صورتِ حال تھی۔
سوشل میڈیا نے بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ نوجوان مسلسل اپنی زندگیوں کا موازنہ دوسروں کی اُن کامیابیوں سے کرتے رہتے ہیں جو اکثر صرف ظاہری اور منتخب تصاویر یا ویڈیوز کی صورت میں پیش کی جاتی ہیں۔ اس موازنے کے نتیجے میں احساسِ محرومی، مایوسی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل، خصوصاً اضطراب اور افسردگی، تشویش ناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے صرف ملازمتوں کی فراہمی کافی نہیں بلکہ تعلیمی نظام، معاشی پالیسیوں اور سماجی معاونت کے ڈھانچوں میں بنیادی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔
اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں نوجوان معلوماتی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی ضروریات متنوع اور بڑھتی ہوئی ہیں۔ ذاتی اخراجات، خاندانی ذمہ داریاں اور مستقبل کے خواب سب مالی وسائل کا تقاضا کرتے ہیں، مگر اکثر یہ وسائل ان کی دسترس سے باہر رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں بہت سے نوجوان اپنی تعلیم کی افادیت پر سوال اٹھانے لگتے ہیں اور یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ برسوں کی محنت اور حصولِ علم کے باوجود انہیں بے یقینی اور اضطراب کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔
موجودہ دور میں نوجوانوں کے پاس مواقع نہایت محدود دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری ملازمت ایک سراب کی مانند محسوس ہوتی ہے جو دور سے تو نمایاں نظر آتی ہے مگر قریب پہنچنے پر معدوم ہو جاتی ہے۔ جب کبھی ملازمتوں کے مواقع پیدا بھی ہوتے ہیں تو اکثر اقربا پروری اور بدعنوانی جیسے عوامل ان کے منصفانہ حصول میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہ دونوں برائیاں روزگار کے متلاشی نوجوانوں کی مجبوریوں اور امیدوں کا استحصال کرتی ہیں۔
دوسری جانب نجی شعبہ بھی عالمی معاشی دباؤ اور مقامی غیر یقینی حالات کے باعث اپنی افرادی قوت میں اضافہ کرنے کے بجائے کمی کر رہا ہے۔ خود روزگاری اور کاروبار کا آغاز اگرچہ ایک ممکنہ راستہ ہے، لیکن بیشتر نوجوانوں کے لیے یہ خواب ہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ نئے کاروباروں کے لیے ضروری مالی اور ادارہ جاتی معاونت کا فقدان ہے۔ مزید یہ کہ معاشرے میں اب بھی ایک ایسا رجحان پایا جاتا ہے جس کے تحت نجی ملازمت یا کاروبار کو سرکاری ملازمت کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔
اس مسئلے میں ایک اور اہم پہلو ’’برین ڈرین‘‘ یا افرادی قوت کی بیرونِ ملک منتقلی ہے۔ بہتر روزگار اور روشن مستقبل کی تلاش میں ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ اگرچہ اس سے انفرادی سطح پر ترقی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، لیکن مقامی معیشت اپنے قابل اور تربیت یافتہ افراد سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہی افراد کسی بھی خطے کی معاشی اور سماجی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مقامی سطح پر ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جو نوجوانوں کو اپنے وطن میں رہ کر ترقی کرنے کی ترغیب دیں۔
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی بھی نوجوانوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ اگرچہ یہ شعبے بے شمار نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں، لیکن وہ افراد جو جدید مہارتوں سے محروم ہیں، ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے ڈیجیٹل تعلیم، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، قابلِ تجدید توانائی اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
بے روزگاری کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا زیادہ سنجیدگی سے احساس کرنا ہوگا۔ آج کا نوجوان خود کو معاشرے کے مرکزی دھارے سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔ طویل انتظار، مسلسل ناکامیوں اور محدود مواقع نے اس کے حوصلے کو متاثر کیا ہے۔ یہ نسل فوری توجہ اور مؤثر اقدامات کی مستحق ہے۔ نوجوانوں کو صرف مالی امداد ہی نہیں بلکہ درست رہنمائی، پیشہ ورانہ تربیت، مشاورت اور ادارہ جاتی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ درحقیقت معاشی خودمختاری ہی انہیں اعتماد اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کو ایسے فنی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے جو نوجوانوں کو منڈی کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کریں۔ ڈیجیٹل خواندگی، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، تکنیکی ہنر اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
اسی طرح مائیکرو فنانس اسکیمیں اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے کم شرحِ سود پر قرضوں کی فراہمی اُن کے تخلیقی خیالات کو کامیاب کاروباروں میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ایسے منصوبے نہ صرف خود روزگاری کو فروغ دیں گے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔
مقامی سطح پر اشتراکی منصوبے اور تعاونی ادارے بھی نوجوانوں کو کاروبار کے میدان میں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مشترکہ وسائل اور باہمی تعاون کے ذریعے وہ مالی رکاوٹوں پر قابو پا سکتے ہیں اور اپنے منصوبوں کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔
تعلیمی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ نصاب میں مالیاتی آگاہی، تنقیدی سوچ، مسائل کے حل کی صلاحیت، موافقت پذیری اور کاروباری ذہن سازی جیسے مضامین کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی زندگی کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو سکیں۔
بے روزگاری کے نفسیاتی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور سماجی اداروں کو ایسے مراکز قائم کرنے چاہییں جو بے روزگار نوجوانوں کو ذہنی صحت کے حوالے سے معاونت فراہم کریں۔ پیشہ ورانہ مشاورت، نفسیاتی رہنمائی اور باہمی تعاون کے گروہ نوجوانوں کو مایوسی اور اضطراب پر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں ایسے نوجوانوں کی کامیاب داستانوں کو اجاگر کرنا چاہیے جنہوں نے مشکلات کے باوجود اپنی محنت، صلاحیت اور عزم کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ ایسی مثالیں دوسرے نوجوانوں کے لیے حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
بالآخر نوجوانوں میں بے روزگاری کے مسئلے کو ایک ناگزیر المیہ سمجھنے کے بجائے ایک قابلِ حل چیلنج کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اس کے حل کے لیے حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور خود نوجوانوں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ عزم، جدت، مؤثر منصوبہ بندی اور مسلسل کوششوں کے ذریعے ہی اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
آئیے ہم ایک ایسے روشن مستقبل کی امید کریں جہاں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری، مایوسی اور بے یقینی کا شکار نہ ہوں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کریں۔ یہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال معاشرے کی ضمانت ہے۔






