• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جون ۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

جہالت کی انتہا: وقتی علاج ضروری ہے

سید مصطفیٰ احمد/حاجی باغ، بڈگام

by امت ڈیسک
05/06/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

میں خود جہالت کی کوئی ٹھوس اور مدلل تعریف کرنے سے قاصر ہوں، لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جہالت بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔ اگر میں کہوں تو بےجا نہ ہوگا کہ اس غلیظ خصلت سے ہی دوسری تمام قسم کی غلاظتیں جنم لیتی ہیں تو بےجا نہ ہوگا۔

تھوڑا بہت مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مذہبی امور میں بھی جہالت سے دور رہنے پر زور دیا گیا ہے۔ جب سے یہ وسیع کائنات وجود میں آئی ہے، تب سے علم اور جہالت کے درمیان کشمکش دیکھی گئی ہے۔ نور اور ظلمت کی باہمی کشمکش نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کی منور ہستیوں کو جہالت کے لبادوں سے نکال کر لوگوں کے بیچ صاف اور شفاف صورت میں سامنے رکھا ہے۔

جہالت یونہی کسی قوم کا مقدر نہیں بنتی۔ یہ اپنا وقت لیتی ہے اور زمین کو تیار کرتے کرتے ایسے زہریلے پیڑ جنم دیتی ہے کہ انسان پھر کھاردار جھاڑیوں میں الجھنے کے بغیر اور کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے پھل اتنے کڑوے ہوتے ہیں کہ انسان ایک پل کے لیے بھی انہیں برداشت نہیں کر سکتا، لیکن پھر بھی لوگوں کی بیشتر آبادی ان تباہ کن جھاڑیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ علم اور حکمت کی نفیس وادیوں سے دور، تاریکی میں اپنی تباہی کا سامان جمع کرتے رہتے ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو پاتا ہے کہ صرف جہالت کا ہی پرچار بازی لے جائے، جبکہ علم و دانش کے بے شمار دریا اور چشمے سوکھے رہ جائیں؟ ایک دانا انسان اس بات کو سمجھنے کی جتنی بھی کوشش کرتا ہے، لیکن پھر بھی حیران رہ جاتا ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب علم ہی اصل سرمایہ ہے تو پھر جہالت کی کیا مجال کہ نور (علم) کے سامنے اپنی آواز بلند کرے اور علم سے لڑنے کی بے ادبی کرے۔

جب میں نے اپنی کم علمی کا استعمال کیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ کچھ وجوہات ایسی ہیں جن کی وجہ سے یہ سارا معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے۔

انا کا مرض

زیادہ تر لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں کہ "میں ہی سب کچھ ہوں۔ سارا مجھ سے شروع ہوتا ہے اور مجھ پر ہی اختتام پذیر ہوتا ہے۔” اس احمقانہ سوچ نے بہتوں کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ عقلمند سمجھنا، اپنی جھوٹی خوبیوں پر اترانا اور اپنی نیکیوں پر دل ہی دل میں پھولے نہ سمانا — یہ سب کچھ جہالت ہے اور کچھ بھی نہیں۔ اسی مرض کی وجہ سے جہالت کی جڑیں دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔

شخص پرستی

اس وجہ نے لگ بھگ ساری دنیا کو اپنے آہنی ہاتھوں سے کس کر پکڑ رکھا ہے۔ ہر طرف شخص پرستی کی مختلف شکلوں میں لوگ اس قدر گھر گئے ہیں کہ باہر نکلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ جہاں بھی نظر دوڑائیں، ہر جگہ شخص پرستی کے بت پوجے جا رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جہالت آسانی سے اپنا کام نکال لیتی ہے اور شخص پرستوں کو اس کی بھنک بھی نہیں لگتی۔ وہ فریب کی دنیا میں رہ کر خود کو صحیح سمجھتے ہیں، علم کا گلہ گھونٹتے ہیں اور جہالت کے پجاری بن کر نہ صرف اپنی دنیا بلکہ اپنی آخرت پر بھی کاری ضرب لگا دیتے ہیں۔ نہ خدا ملا، نہ وصالِ صنم ہوا، نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔

دین سے دوری

اسلام میں واضح الفاظ میں اس بات کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے کہ علم حاصل کرنا کتنا اہم ہے اور جہالت سے کوسوں دور رہنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ عالم کا رتبہ جاہل سے کئی گنا زیادہ ہے۔ علم کی تلاش دراصل خدا کی تلاش ہے۔ جو علم کے راستے میں نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے رحمت کے بادل سایہ فگن کرتے ہیں۔ عالم کی مثال ایک ایسے ستارے کی ہے جو بھول بلیوں میں راہنمائی کرتا ہے۔

اب جب اسلام میں اتنی واشگاف الفاظ میں علم کی اہمیت بیان کی گئی ہو اور جہالت سے دور رہنے پر اتنا زور دیا گیا ہو، تو ہم کیسے سوچ سمجھ کر چیزوں کی تہہ میں اترنے سے گریز کرتے ہوئے ایسے من گھڑت خیالات کا پرچار کر سکتے ہیں جن کی کوئی بنیاد نہ ہو؟ جہاں علم کے چشمے پھوٹ رہے ہوں، وہاں ریگستان کا بورڈ نصب کرنے سے کون سا کارنامہ انجام دیا جاتا ہے؟

سماج کی ساخت

ہمارے سماج میں رسم و رواج نے ایسی گہری جڑیں پکڑ لی ہیں کہ اب دین، تہذیب اور رسم و رواج ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو چکے ہیں کہ انہیں الگ الگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جب روایات ہی زندگی کا دوسرا نام بن جائیں تو حالات کا صحیح ڈگر پر رہنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہالت کے پیر مضبوط سے مضبوط تر ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ انہی حالات میں حقیقی علم پردے کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور جہالت اپنی مستی میں رقص کرتی رہتی ہے۔

جہالت کے چند اہم اثرات

سب سے پہلے اس کا اثر اس شکل میں سامنے آتا ہے کہ علم کی وقعت کم ہو جاتی ہے اور علماء پر بھروسہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں علماء کے لفظ کو وسیع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ جس قوم میں جاننے والوں سے پوچھا ہی نہ جائے، وہ قوم بظاہر خوش باش تو دکھائی دیتی ہے لیکن اس کا اصلی روپ مسخ ہو چکا ہوتا ہے۔ جب چیزوں کا اصلی علم رکھنے والا شخص ہی بے وقعت ہو جائے تو اس قوم کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔ یہ معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ اس کا دوسرا اثر سماج میں اختلافات کا ہر طرف سے امڈ کر آنے کی شکل میں نکل کر آتا ہے۔ جب ہر کوئی بدمست ہاتھی کی طرح جہالت میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہو، تو ان حالات میں ہر کوئی اپنے آپ کو عالم سمجھ کر اور شخص پرستی کا گندہ لبادہ اوڑھ کر آگ پر تیل کا کام انجام دیتا ہے اور دیکھتے دیکھتے سارے کا سارا سماج طوفانوں میں گھر جاتا ہے۔ پھر معزز ہستیوں کی مٹی سر بازار پلید کی جاتی ہے اور اخلاقیات کا جنازہ ہر روز نکل جاتا ہے۔ اس کا تیسرا اثر خدا کی ناراضگی ہے۔ الله تعالیٰ سب سے زیادہ جاننے والا ہیں۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ اس کو علم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے والوں سے بڑا لگاؤ ہے لیکن جب علم حاصل کرنا محدود نظریات کا شکار ہو جائے اور لوگ تحقیق کرنا بھی چھوڑ دیں، تب الله تعالیٰ کی ناراضگی بندوں پر مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس قوم میں سکون کا فقدان دور سے چھلک اور جھلکتا ہے۔ بظاہر علم کے انبار لگانے کے باوجود خدا کی خوشنودی گنے چنے علماء کے نصیب میں آتی ہیں۔

اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم جہالت سے اپنا دامن بچانے کی جتنی بھی کوششیں کر سکتے ہیں وہ کریں۔ کسی بھی قوم کی بقا کے لئے جہالت کوئی زیور نہیں ہے۔ یہ ایک بدنما داغ ہے جس کی گہرائی کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا ہے۔ جہالت سے چھٹکارا پانے کے لئے ہمیں اپنے آپ سے شروعات کرنی چاہیے۔ خود کو جہالت کے طوق سے آزاد کرنا ہی اصل وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اصلی اور قابل علماء سے ہمیشہ رجوع کرنا چاہیے تاکہ عمل اور عقیدے دونوں میں کوئی بگاڑ نہ رہے۔ اس کے علاوہ اپنے سماج میں بھی ایسی بھرپور کوشش کرنی چاہیے جس سے دوسرے لوگوں میں علم کی اہمیت کا احساس ہو جائے۔ اس کار خیر میں سب کو آگے آنا پڑے گا۔ سب لوگوں کو قوم کی فکر کرنے کی جہت میں آگے آگے ہونا چاہیے۔ درسگاہوں سے لے تعلیمی اداروں تک ہم اپنے نونہالوں کے لیے علم کے سٹیج مہیا کرسکتے ہیں جس سے حال کے علاوہ مستقبل بھی سنبھل جائے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے ہم سب کو آہنی چنے چبانے پڑے گے اور ہمارے دانت بھی لہولہان ہوگے لیکن منزل پر پہنچ کر سارے زخم بھر آئیں گے اور زندگی حسین دکھائی دے گی۔ الله تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ماں: ایک انمول تحفہ

Next Post

لال بازار سرینگر میں 36 سالہ خاتون پراسرار حالات میں مردہ پائی گئی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ماں: ایک انمول تحفہ

ماں: ایک انمول تحفہ

05/06/2026
جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

"سفید کوٹ کے پیچھے چھپا ظلم”

05/06/2026
انتخابی مہم کی  سیاسی نفسیات اور  بنکھو وزیر اعلیٰ گانا

لوگ بدل جاتے ہیں- خاموش تبدیلیوں کا نفسیاتی اور جذباتی المیہ

22/05/2026
جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

22/05/2026
خاموش اذیتیں، ٹوٹتے دل اور ہمارے سماج کا بےحس چہرہ

خاموش اذیتیں، ٹوٹتے دل اور ہمارے سماج کا بےحس چہرہ

22/05/2026
طلوعِ روح کا عظیم کارواں

طلوعِ روح کا عظیم کارواں

15/05/2026
Next Post
سرینگر میں گھریلو ملازم کے ہاتھوں خاتون کا بہیمانہ قتل، بیٹا سعودی عرب میں سی سی ٹی وی پر منظر دیکھتا رہا

لال بازار سرینگر میں 36 سالہ خاتون پراسرار حالات میں مردہ پائی گئی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »