دنیا کی ہر مہذب اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد عوام کی خوشحالی انصاف تعلیم اور فلاح پر استوار ہوتی ہے جب حکمران عوام کے مسائل کو اپنی ترجیح بناتے ہیں تو معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے لیکن جب سیاست خدمت کے بجائے اقتدار کی جنگ بن جائے تو عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور سیاسی تماشے قومی زندگی کا سب سے بڑا موضوع بن جاتے ہیں. بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بھی یہی المیہ جنم لے چکا ہے جہاں عوام کے زخم گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور سیاسی شور شرابا بڑھتا جا رہا ہے.
آج ایک عام آدمی کی زندگی مشکلات سے بھری ہوئی ہے مہنگائی نے اس کی کمر توڑ دی ہے بے روزگاری نے اس کے خواب چھین لیے ہیں تعلیم اور علاج اس کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں ایک مزدور صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے اور سارا دن محنت کرنے کے باوجود شام کو اپنے بچوں کے لیے مکمل کھانا نہیں لا پاتا ایک باپ اپنی بیٹی کی تعلیم اور شادی کی فکر میں رات بھر جاگتا رہتا ہے. ایک ماں بیمار بچے کو گود میں لیے ہسپتالوں کے چکر کاٹتی ہے لیکن مناسب علاج میسر نہیں آتا یہ وہ تلخ حقیقتیں ہیں جو لاکھوں لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں.
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مسائل پر سنجیدہ غور کرنے کے بجائے سیاسی میدان میں ایک الگ ہی تماشا جاری رہتا ہے کہیں جلسے جلوس ہیں کہیں ایک دوسرے پر الزامات کی بارش ہو رہی ہے کہیں نفرت انگیز تقاریر سے ماحول کو مزید آلودہ کیا جا رہا ہے سیاست دان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام اپنی بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں.
کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام صرف ووٹ دینے کے دن یاد آتے ہیں انتخابات کے دوران بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں خوشحال مستقبل کی تصویریں دکھائی جاتی ہیں غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن اقتدار حاصل ہونے کے بعد یہ وعدے اکثر الفاظ کی حد تک محدود رہ جاتے ہیں. عوام امید لگائے بیٹھے رہتے ہیں مگر ان کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آتی.
سیاسی تماشوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتے ہیں میڈیا پر گھنٹوں سیاسی بیان بازی دکھائی جاتی ہے لیکن کسی غریب کے خالی چولہے کسی مزدور کی بے بسی یا کسی طالب علم کے ٹوٹے ہوئے خوابوں پر بہت کم بات ہوتی ہے وہ کسان جو سارا سال محنت کر کے قوم کا پیٹ بھرتا ہے اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا رہتا ہے مگر اس کی فریاد شاذ و نادر ہی سنی جاتی ہے.
ہمارے معاشرے کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ غربت صرف جیب کو خالی نہیں کرتی بلکہ انسان کے خواب عزتِ نفس اور امیدوں کو بھی کھا جاتی ہے. ایک نوجوان جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے، جب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوتا ہے تو اس کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی محنت کا صلہ کہاں گیا ایک ماں جب اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہیں کر پاتی تو اس کی آنکھوں میں چھپی بے بسی کسی بھی حساس دل کو رلا سکتی ہے.
یہ تمام مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکومتیں اور سیاسی قیادت عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں لیکن جب سیاست ذاتی مفادات طاقت کی کشمکش اور اقتدار کی ہوس کا شکار ہو جائے تو عوامی فلاح کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے سیاست دانوں کے درمیان جاری لڑائیاں قوم کو تقسیم کرتی ہیں جبکہ اصل مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں.
قوموں کی ترقی صرف سڑکیں بنانے یا بلند و بالا عمارتیں کھڑی کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ انسانوں کی زندگی بہتر بنانے سے ہوتی ہے۔ اگر ایک غریب کو انصاف نہیں ملتا، ایک بیمار علاج سے محروم ہے اور ایک نوجوان بے روزگار ہے تو ترقی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں حقیقی ترقی وہ ہے جو عام آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئے، اس کے بچوں کو تعلیم دے اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنائے.
تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکمران عوام کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اقتدار کو خدمت کا ذریعہ بنایا جنہوں نے عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے دوسری طرف وہ لوگ جو صرف سیاسی تماشوں میں مصروف رہے، وقت کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئے.
آج ہمیں بطور قوم یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم سیاسی نعروں اور جذباتی تقریروں کے پیچھے اپنی اصل ترجیحات کو بھول نہیں رہے کیا ہمیں ان مسائل پر توجہ نہیں دینی چاہیے جو ہماری روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں؟ کیا عوام کا حق نہیں کہ انہیں معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار اور انصاف فراہم کیا جائے.
اگر عوام اپنے مسائل کے بارے میں شعور پیدا کریں اور سیاست دانوں سے جواب طلبی کریں تو صورتحال بدل سکتی ہے ایک باشعور قوم ہی اپنے حقوق حاصل کر سکتی ہے عوام کو چاہیے کہ وہ شخصیت پرستی کے بجائے کارکردگی کو اہمیت دیں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو واقعی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں.
میڈیا دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی بھی بڑی ذمہ داری ہے انہیں چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کریں غریب اور محروم طبقے کی آواز بنیں اور حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔ جب معاشرے کے تمام طبقات اپنی ذمہ داری ادا کریں گے تو تبدیلی کی امید پیدا ہوگی.
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عوامی مسائل اور سیاسی تماشوں کی یہ جنگ دراصل قوم کے مستقبل کی جنگ ہے اگر سیاسی تماشے غالب رہے تو غربت بے روزگاری اور ناانصافی مزید بڑھتی جائے گی لیکن اگر عوامی مسائل کو ترجیح دی گئی اگر اقتدار کو خدمت کا ذریعہ بنایا گیا اور اگر سیاست کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا گیا تو ایک روشن اور خوشحال مستقبل ہمارا منتظر ہوگا.
آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ عوام کے دکھ درد کو سیاست کی نذر نہیں ہونے دیں گے ہم ان آوازوں کو سنیں گے جو خاموشی سے مدد کی منتظر ہیں ہم ان آنکھوں کے آنسو پونچھنے کی کوشش کریں گے جو برسوں سے انصاف اور سہولتوں کے انتظار میں ہیں کیونکہ قوموں کی عظمت سیاسی تماشوں میں نہیں بلکہ عوام کی خوشحالی عزت اور سکون میں پوشیدہ ہوتی ہے.






