امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کشمیر شاندار علمی ماضی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کبھی ایشیا کے اہم ترین علمی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے علماء سنسکرت اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کرتے تھے اور بعد میں تراجم اور علمی تبادلوں کے ذریعے ہندوستانی علمی روایات کو دنیا بھر تک پہنچاتے تھے۔
ہفتہ کو سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں نالندہ ڈائیلاگ-2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ "کشمیر اور نالندہ کے درمیان ایک گہرا تہذیبی اور تاریخی تعلق رہا ہے۔ دونوں خطے ماضی میں علم و دانش کے ایسے مراکز تھے جنہوں نے فلسفے، سائنس اور ثقافت سے متعلق سوچ کو مختلف براعظموں تک متاثر کیا۔”
انہوں نے نالندہ ڈائیلاگ کے انعقاد کے حوالہ سے کہا: "اس طرح کے فورمز ماضی پر غور و فکر کا موقع فراہم کرتے ہیں اور مکالمے اور فکری تبادلے کے ذریعے مستقبل کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔”
قدیم نالندہ کی علمی میراث کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نالندہ یونیورسٹی ہندوستان کی عظیم علمی روایت اور عالمی تہذیب کے لیے اس کی خدمات کی علامت تھی۔ انہوں نے کہا کہ نالندہ، تکششیلا، وکرم شیلا اور دیگر قدیم تعلیمی ادارے صرف درسگاہیں نہیں تھے بلکہ عالمی علمی مراکز تھے، جہاں دنیا کے مختلف حصوں سے علماء آتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی شناخت ہمیشہ اس کے عظیم علمی مراکز سے جڑی رہی ہے۔ یہ ادارے مختلف تہذیبوں، خیالات اور علمی روایات کے سنگم بن گئے تھے اور ہندوستانی تہذیب کی کشادہ ذہنی کی عکاسی کرتے تھے۔
کشمیر کے تاریخی کردار کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ "یہ خطہ شاردہ پیٹھ کا مسکن رہا ہے، جو قدیم دنیا کے سب سے معزز علمی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔” انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک زمانے میں علم و دانش کا بڑا مرکز تھا۔ دور دراز علاقوں سے لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ افغانستان اور دیگر خطوں کے علماء سنسکرت اور مختلف علوم سیکھنے کے لیے کشمیر کا رخ کرتے تھے اور پھر اس علم کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچاتے تھے۔
منوج سنہا نے کہا کہ کشمیر نے ہندوستانی علوم کو دوسری تہذیبوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مختلف ممالک کے علماء وادی کا دورہ کرتے تھے جبکہ کشمیر میں زیرِ مطالعہ سنسکرت متون کا عربی زبان میں ترجمہ کیا جاتا تھا، جس کے ذریعے ہندوستانی افکار عرب دنیا اور دیگر خطوں تک پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر مختلف علمی روایات کو جوڑنے والا ایک اہم پل ثابت ہوا۔ ریاضی اور سائنس میں ہندوستان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ "صفر” کا تصور قدیم علمی روابط کے ذریعے ہندوستان سے بغداد پہنچا اور وہاں سے یورپ گیا، جس نے سائنسی اور ریاضیاتی ترقی پر گہرا اثر ڈالا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے بغداد اور پھر یورپ تک علم کا سفر ہماری تہذیبی دانش کی غیر معمولی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ انسانی ترقی میں ہندوستان کی فکری خدمات نہایت اہم رہی ہیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ کشمیر اور نالندہ ایک وسیع تہذیبی وژن کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کی بنیاد علم، مکالمے اور سچائی کی تلاش پر قائم ہے۔ دونوں مراکز نے ثابت کیا کہ علم معاشروں کو جوڑ سکتا ہے، جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو سکتا ہے اور انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان، جو ایک عظیم تہذیبی ورثے کا وارث ہے، کو اختراع، دوراندیشی اور ثقافتی اعتماد کے ذریعے اس روایت کو آگے بڑھانا چاہیے۔
انہوں نے بہار، جموں و کشمیر، لداخ اور کاشی سمیت مختلف خطوں کے قدیم علمی مراکز کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہندوستان کی اجتماعی شعوری شناخت کو مضبوط بنایا جا سکے اور اس کے علمی ورثے کا تحفظ ممکن ہو۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں اس جذبے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جس نے کبھی مختلف علاقوں کو علم، ثقافت اور فکری تبادلوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑ رکھا تھا۔ یہ مشترکہ ورثہ قومی شعور کو مضبوط بنا سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کو تحریک دے سکتا ہے۔”
نالندہ ڈائیلاگ کے سرینگر میں انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ "یہ شہر طویل عرصے سے علم، ثقافتی تبادلوں اور فکری جستجو کا مرکز رہا ہے۔”
انہوں نے کشمیر کو سنسکرت علوم اور فلسفیانہ فکر کا تاریخی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے ممتاز مفکرین نے ہندوستانی علمی روایات کی تشکیل اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ موجودہ دور میں ثقافتی تبادلہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس مکالمے میں ہونے والی گفتگو پالیسی سازی، تعلیمی تعاون اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دے گی، جبکہ نوجوانوں کو قوم کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تبدیلی کا محرک بننا ہوگا اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والے خیالات اور فیصلوں کا ذریعہ بننا ہوگا۔ علم، اختراع، سائنس اور ثقافت کو مل کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنی چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ہندوستان کی "سافٹ پاور” اور ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملک کے فکری اور تہذیبی ورثے کو عالمی سطح پر فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کے نوجوان اپنے ملک کے علمی اور ثقافتی ورثے کو سمجھتے اور دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں تو ہندوستان کی سافٹ پاور اور ثقافتی سفارت کاری مزید مضبوط ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تہذیبی روایات اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں شامل ہیں۔
اپنی تقریر کے آخر میں منوج سنہا نے کہا کہ "نالندہ ڈائیلاگ ہندوستان کے علم، انسانی اقدار اور ثقافتی تبادلوں سے وابستہ دیرینہ عزم کی توثیق کرتا ہے اور کشمیر و نالندہ کے درمیان ان تاریخی روابط کو تازہ کرتا ہے جنہوں نے عالمی علمی روایت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔



