امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 21 جون: جموں و کشمیر کی وزیر سکینہ ایتو نے سرکاری ملازمتوں میں آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام نیشنل کانفرنس نہیں بلکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔
سرینگر میں بین الاقوامی یومِ یوگا کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ایسے نظام کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جو اس نے قائم ہی نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو تحقیقات کرنی ہیں تو وہ دس سال قبل کیے گئے فیصلوں اور تقرریوں کی جانچ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آؤٹ سورسنگ کا ماڈل پی ڈی پی کے دورِ حکومت میں شروع کیا گیا تھا۔
سکینہ ایتو نے سابقہ حکومتوں پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں میں غیر اہل افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایسے افراد بھی اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گئے جن کے پاس مطلوبہ تعلیمی قابلیت موجود نہیں تھی۔
وزیر موصوفہ نے کہا کہ انہوں نے آؤٹ سورسنگ کے معیار اور اس کے نقصانات کا معاملہ براہِ راست مرکزی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق مستقل بنیادوں پر بھرتیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو باقاعدہ روزگار مل سکے اور تقرریوں کا شفاف نظام قائم ہو۔
انہوں نے اپوزیشن پر عوام کو روزگار کے مسائل پر گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں اپنی سابقہ غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہیں۔
سکینہ ایتو نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اور معاشی مسائل کا ذمہ دار بھی پی ڈی پی کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جموں و کشمیر کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان میں خصوصی حیثیت کا خاتمہ، زمین اور روزگار سے متعلق مسائل شامل ہیں، اور ان حالات کے لیے ماضی کی پالیسیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے معاملات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، کیونکہ موجودہ حکومت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
سکینہ ایتو نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے حقائق سامنے لائے جائیں اور جہاں سے بھی تحقیقات کرانی ہوں، کرائی جائیں، حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔






