امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن/تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی جنوبی لبنان میں کارروائیوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے، تاہم امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ یاد رہے کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل تھا، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹِم ہاکنز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور امریکی افواج صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں۔‘‘
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ روانگی سے قبل انہوں نے امید ظاہر کی کہ جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
وینس نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور تناؤ میں کسی حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا تمام فریقین کا مشترکہ مقصد ہونا چاہیے۔






