امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 27 جون: اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے سرینگر، بالخصوص تاریخی شہرِ خاص، کے لیے خصوصی اقتصادی اور رہائشی پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقہ دہائیوں سے سرکاری بے توجہی کا شکار ہے، جس کے باعث یہاں کے عوام شدید معاشی مشکلات، بے روزگاری اور رہائشی بحران سے دوچار ہیں۔
اپنے بیان میں الطاف بخاری نے کہا کہ شہرِ خاص کے کئی علاقوں میں غربت نمایاں ہے اور متعدد خاندان خستہ حال گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر ایک ہی مکان میں دو یا تین خاندان رہائش پذیر ہیں، جو ناقص شہری منصوبہ بندی اور طویل عرصے کی سرکاری غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ ریزرویشن نظام بھی شہر کے نوجوانوں کے مفادات کے خلاف ہے، کیونکہ بیشتر افراد صرف اقتصادی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے زمرے میں آتے ہیں، جبکہ اس کا کوٹہ 10 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
الطاف بخاری نے کہا کہ بے روزگاری، معاشی مواقع کی کمی اور مناسب رہائش نہ ہونے کی وجہ سے سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہی مسائل نوجوانوں میں تاخیر سے شادی یا شادی نہ کرنے کی بڑی وجوہات بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہرِ خاص سرینگر کی روح ہے اور یہاں کے عوام بہتر رہائشی سہولیات، معیاری تعلیم، باعزت روزگار اور جدید بنیادی ڈھانچے کے مستحق ہیں۔
اپنی پارٹی صدر نے منتخب حکومت پر زور دیا کہ وہ مرکزی حکومت سے سرینگر کے لیے خصوصی اقتصادی اور ہاؤسنگ پیکیج حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارش کے دوران ایک گھنٹے کی بارش سے ڈاؤن ٹاؤن کے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے، جس سے نکاسیٔ آب کے ناقص نظام کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈرینیج، سڑکوں اور دیگر عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔




